تبصرے تجزئیے

  • حلیمہ سلطان اور بدقسمت کپتان

    اس بات پر تو سب متفق ہیں کہ کپتان کے سینے میں قوم کا بے پایاں غم ہے۔ وہ صدق دل سے اس بدقسمت قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے۔ ورنہ وہ صرف کمنٹری کر کے ہی سالانہ اربوں ڈالر کما سکتا تھا۔ اور جتنا وہ ہینڈسم ہے، وہ ماڈلنگ کر کے اس سے ڈبل رقم کما سکتا تھا اور بادشاہوں کی طرح عیش و عشرت میں س [..]مزید پڑھیں

  • ہم تلخ حقائق کا ادراک کب کریں گے؟

    ہماری دیہی زندگی میں ایک محاورہ مستعمل ہے کہ ’گیارھویں کا پتہ بارھویں کو چلتا ہے‘۔ دہشت گردوں کے خلاف جن دنوں سرگرمی سے آپریشن کیا جا رہا تھا، تب بیرون ملک دورے پر گئے ہوئے ہمارے عسکری سربراہ نے میڈیا کے سامنے اقبال کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم نے اپنی غلط پالیسیوں کے ذریعے [..]مزید پڑھیں

  • مردانہ بانجھ پن اور سٹم سیلز!

    پچھلے دنوں ہوا کے دوش پہ تیرتا ہوا ایک وڈیو کلپ ہم تک آن پہنچا جس میں پاکستان کے ایک چھوٹے شہر میں مقیم ایک خاتون ڈاکٹر اپنے ہسپتال میں مردانہ بانجھ پن کا علاج سٹم سیل سے کرنے کا مژده سنا رہی تھیں اور کامیابی کا تناسب آسمان کو چھو رہا تھا۔ سن کے، ہم چپ رہے ہم ہنس دیے، والا معاملہ � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عمران خان کی حکومت کا مستقبل

    وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین کی کوشش ہے کہ کسی طریقے سے عمران خان کی حکومت اپنی سیاسی مدت پوری نہ کرسکے او رملک نئے انتخابات کی طرف فوری طور پر گامزن ہوسکے۔ اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر تمام حزب اختلاف کی جماعتیں دو نکاتی بیانیہ پر توجہ دے رہی ہیں۔ اول عمران خان کی حکومت نا [..]مزید پڑھیں

  • کراچی پر اور کتنی ڈرامے بازی ؟

    یہ جو پچھلے چند روز سے کراچی کی حالتِ زار پر مرکز سے صوبے تک ہر فیصلہ ساز ماتمی اداکاری کر رہا ہے۔ یہ تماشا ہم اہلیانِ کراچی کئی عشروں سے سالانہ بنیاد پر دیکھتے آ رہے ہیں۔ اب تو سب کچھ ایک پھٹیچر اسکرپٹ جیسا لگنے لگا ہے۔ پہلے منظر میں شدید بارش ہوگی۔ شاہراہوں اور گلیوں میں پان [..]مزید پڑھیں

  • گاجر مولی!

    گاجر: (مولی سے) تمہارا رنگ پاکستانی جھنڈے جیسا سفید اور سبز ضرور ہے مگر تمہاری بھی پاکستانی عوام کی طرح سرے سے کوئی حیثیت نہیں۔ مولی: تمہارا رنگ سرخ ہے ذائقہ بھی میٹھا ہے مگر گاجر اور مولی ایک ہی تھیلی کے چٹی بٹی ہیں، جب بھی کوئی برا وقت آتا ہے گاجر مولی کو عوام کی طرح اکٹھے ہی � [..]مزید پڑھیں

  • کُھلا ہے جھوٹ کا بازار

    اِس برسات کے موسم نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ساتھ جو کیا اُسے دیکھ کر قتیل شفائی کا یہ شعر یاد آتا ہے: دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا یہ وہ بارش تھی جو رحمت سے زحمت بن گئی۔ غریبوں کی بستیاں اجڑ گئیں اور امیروں کے بنگلے � [..]مزید پڑھیں

  • مردانہ بانجھ پن: کیا، کیسے اور کیوں؟

    ایک مرد اور دو عورتیں۔ ہمیشہ کی طرح وہی مثلث، اور ہمارا کلینک۔ شوہر بیوی اور ساس۔ صاحب، ہمارا مسئلہ کچھ اور ہے- ہمیں عورت کی شکم سیری اور سر پہ چھت کے عوض وہ تازیانے نہیں قبول جو مالک اپنا حق سمجھتے ہوئے اپنی ملکیت پہ برساتا ہے۔  کاش میں وہ منظر ان تمام لکھاریوں کو دکھا سکوں � [..]مزید پڑھیں

  • ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کو کیسے لوٹا؟

    بہت برس گزرے، استاذی رضی عابدی ہمیں چارلس ڈکنز کا ناول Hard Times پڑھا رہے تھے۔ یہ مختصر ناول انیسویں صدی کے انگلستان میں کوئلے کے کان کنوں کی زندگیاں بیان کرتا ہے۔ ناول میں ایک مزدور میاں بیوی کی گھریلو توتکار کا تفصیلی بیان پڑھتے ہوئے ایک طالب علم نے کہا کہ ان دو کو لڑنے جھگڑنے کے [..]مزید پڑھیں