تبصرے تجزئیے

  • ملتان کا نقشہ بدل رہا ہے

    قدیم اور تاریخی اعتبار سے ملتان کی حیثیت کو سبھی تسلیم کرتے ہیں۔ ملتان کا شمار دنیا کے قدیم زندہ شہروں میں ہوتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ ملتان کو دارلخلافہ کا درجہ دیا جاتا تھا۔ کئی حوالوں میں لاہور کو بھی ملتان کے یکے از مضافات میں شمار کیا جاتا تھا مگر جب سے تخت لاہور قائم ہوا، � [..]مزید پڑھیں

  • پاک امریکہ دوستی اور مارکو روبیو کا بیان

    امریکہ کے ساتھ پاکستان کے بڑھتے ہوئے مراسم کے بارے میں قومی طور پر بھی مباحث کا سلسلہ جاری ہے  لیکن عالمی سطح پر بھی انہیں توجہ دی جارہی ہے۔ خاص طور سے یہ تعلقات ایک ایسے موقع پر بہتری کی طرف گامزن ہوئے ہیں جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں دوری دیکھنے میں آرہی ہے۔ بھارتی وز� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • امور خارجہ کی ’نجی فرنچائزز‘ کی ضرورت؟

    کیا کوئی قومی ریاست اس بات کی متحمل ہو سکتی ہے کہ اس کی خارجہ پالیسی کی نجی فرنچائزز کھلی ہوئی ہوں اور مذہبی شخصیات سے لے کر سیاسی رہنماؤں تک، سب وفاق کو اپنی خدمات پیش کر رہے ہوں کہ وہ فلاں ملک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے میں ریاست کی مدد فرما سکتے ہیں؟ جب جب افغانستان کے ساتھ [..]مزید پڑھیں

  • اکستان کو کیوں ’نظر انداز‘ نہیں کیا جا سکتا

    پروفیسر کانتی پرشاد باجپائی بھارت کے بین الاقوامی شہرت رکھنے والے محقق اور دانشور ہیں۔ نئی دہلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں بین الاقوامی سیاست کے استاد رہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں بھی ایک عرصہ گزارا، اب سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ بین الاقوامی سیاست پر اُن کی ن [..]مزید پڑھیں

  • عیاشی کے لمحات

    پنجابی مہینے کَتک کے بارہ دن گزر گئے اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ دھوپ میں بیٹھا نہیں جاتا لیکن جو ہمارے صحن میں بیری کا درخت ہے اس کے نیچے سونے کا اپنا مزہ ہے۔ شامیں بہت ہی خوشگوار ہو گئی ہیں کیونکہ یہی دو تین ماہ ہوتے ہیں جن میں شمالی پنجاب کا موسم قاتل ہو جاتا ہے۔ اب موسم کا سماں [..]مزید پڑھیں

  • احمد شمیم: شعر اور نقشے پر کھنچی لکیریں

    شعر اور اقتدار کی دنیائیں الگ ہیں۔ شعر فرد پر گزرنے والی قیامت بیان کرتا ہے۔ اقتدار جذبات کی دنیا سے بے نیاز پیوستہ مفادات کی حرکیات سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک جملہ سٹالن سے منسوب کیا جا تا ہے کہ ایک انسان کی موت المیہ ہے اور دس لاکھ افراد کی موت محض ایک عدد۔ یہ بتانا تو مشکل ہے کہ س� [..]مزید پڑھیں

  • ہم غدار وطن نہیں تھے

    نصف صدی قوموں کی زندگی میں شاید ایک مختصر وقفہ کہلائے گی لیکن ایک فرد کی فعال بالغ زندگی کے کل برس غالباً اتنے ہی ہوتے ہیں۔ درویش نے ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں شعور کی آنکھ کھولی۔ ملک ٹوٹ چکا تھا اور قومی تاریخ میں پہلی منتخب حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اب مڑ کے دیکھتا ہوں تو [..]مزید پڑھیں