تبصرے تجزئیے

  • زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے؟

    ذرا تھوڑی دیر کے لئے ناصر کاظمی کو یاد کر لیجئے اور اس کی آواز میں اپنی آواز ملا کر یہ شعر پڑھ لیجئے: ہم اور آپ تو زمیں کا بوجھ ہیں زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے ناصر کاظمی نے غلط تو نہیں کہا تھا۔ کہاں گئے وہ فراخ دل اور کشادہ دماغ رکھنے والے، جن کے اندر برداشت کا مادہ تھ� [..]مزید پڑھیں

  • نواز شریف اور بلاول صاحب! بولنا ہے تو آج بولیں

    پنجاب اسمبلی میں تحفظ بنیاد اسلام بل پیش ہوا۔ ویسے تو پاکستان کی اسمبلیوں ہر وقت تو تڑاخ اور الزام تراشی کے مناظر نظر آتے ہیں۔ لیکن محض عنوان کی برکت سے یہ بل متفقہ طور پر منظور ہو گیا۔ شاید کسی ممبر نے اس پر غور کرنے کا تکلف نہیں کیا تھا لیکن اب پورا ملک اس پر تبصرے کر رہا ہے۔ ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • باصر سلطان کاظمی: سرزمین شعر کا اجنبی مسافر

    1971 کا سال تھا جب میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالب علم تھا۔ باصر سے دوستی کا آغاز ہو چکا تھا۔ ایک دن باصر نے پہلی بار مجھے اپنی وہ غزل سنائی جس کا مطلع ہے : دم صبح آندھیوں نے جنہیں رکھ دیا مسل کے وہی ننھے ننھے پودے تھے گھنے درخت کل کے غزل مجھے بہت ہی پسند آئی اور اس کا [..]مزید پڑھیں

  • ایوان اقتدار میں انسانی خدمت کی مثال ؟

    انسانیت کے پچھلے پانچ ہزار سالہ ادوار کا مطالعہ کریں تو سب سے درد ناک المیہ جبر اور طاقت کا اندھا استعمال جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا جنگلی اصول ہے۔ اقتدار یا حکمرانی کی ہوس نے ملک گیری یا فتوحات کی راہ اپنائی جس سے انسانیت پے در پے کچلی جاتی رہی۔  یونانی فلاسفرز کی فکری عظ [..]مزید پڑھیں

  • لاقانونیت کا سیلاب

    جب عدالتیں صرف طاقتور اور دولت مندوں کی مرضی کے مطابق فیصلے کریں اور ان میں بھی طاقتور ترین کو فوقیت دیں تو معاشرے سے انصاف کا بھرم ختم ہوجاتا ہے۔  جس معاشرے سے انصاف اٹھ جائے وہ انارکی کے ایک نہ ختم ہونے والے بھنور میں پھنس جاتا ہے۔ اسلامی معاشرے میں جو امہ کا تصور ہے وہ بین [..]مزید پڑھیں

  • انتباہ کے چند حرف

    دنیا بھر کے معاشروں میں درجنوں نہیں سینکڑوں افراد روزانہ قتل ہوتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کی اکثریت اخبار کے صفحات اور ٹی وی کے نیوز بلیٹن میں جگہ بھی نہیں بنا پاتی۔ ایسے واقعات کی ایک بڑی تعداد کے حوالےسے شاید انصاف کے تقاضے بھی پورے نہ ہو پاتے ہوں۔ لیکن انسانی معاشرے ان حادثا� [..]مزید پڑھیں

  • شیخ رشید کی احتسابی پیش گوئی

    شیخ رشید کے پاس ووٹ ہوں یا نہ ہوں خبریں ضرور ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ان کا کام اب خطہ پوٹھوہار کے پیر پگاڑہ سا لگتا ہے۔ وہ بھی مستقبل کے بارے میں پیش گوئیاں کرکے خود کو سیاست میں زندہ بھی رکھتے تھے اور یہ تصور بھی گہرا کرتے تھے کہ وہ بھائی لوگوں کے معتمد خاص ہیں۔ شیخ صاحب نے عید کے ب [..]مزید پڑھیں

  • آ اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں

    ہماری اردو شاعری میں کافر یا بت کے الفاظ محبوب کیلئے استعمال ہوتے ہیں کیونکہ محبوب کی توبہ شکن اداﺅں کے سامنے چنگا بھلا باشعور انسان بھی جان ہی نہیں ایمان کی بھی پروا نہیں کر پاتا۔ سچا عاشق اتنی بڑی نعمتیں نظر ناز پر قربان کر دیتا ہے۔ محبوب کوصنم یا بت اس لئے کہا جاتا ہے کہ عا [..]مزید پڑھیں