تبصرے تجزئیے

  • نومبر کی رات اور کاتک کا چاند

    موسموں کی کیا پوچھتے ہیں۔ آتے جاتے رہتے ہیں۔ بام حرم کے دست آموز پرندے البتہ موسموں کی خوب خبر رکھتے ہیں۔ آب و ہوا کو موافق پا کر جھیلوں کے کنارے اترتے ہیں۔ ’پانی کے پرندوں کا اکثر چشموں میں بسیرا ہوتا ہے‘۔ پانیوں ہی پر موقوف نہیں، حریم ناز کے خوش رنگ پرندے تو زیر زمیں زل� [..]مزید پڑھیں

  • ہم سب خانہ بدوش ہیں

    جموں و کشمیر کے 15 لاکھ سے زائد خانہ بدوش جو زیادہ تر گجر اور بکر وال برادری سے تعلق رکھتے ہیں، آج کل بھارتیہ جنتا پارٹی کی ہندو توا پالیسیوں کی وجہ سے پریشان حال ہیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں عام رائے ہے کہ ان کی اکثریت تن من سے ہندوستانی ہے اور آزادی تحریک میں ان کا کوئی خاص کردار � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مچھر اور اونٹ
    • 11/19/2020 7:44 PM
    • 7680

    ’اندھے رہنماؤ، تم پر افسوس جوکہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے احمقو اور اندھو! سونا بڑا ہے یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا؟ اور پھر یہ کہتے ہوکہ اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھاتا ہے تو کچھ بات نہیں، ل� [..]مزید پڑھیں

  • یہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

    اس وقت جب ہم یہ سطریں لکھ رہے ہیں تو ایک ہنستا مسکراتا چہرہ ہمارے سامنے آ گیا ہے۔ اس شخص کا چہرہ جو اب ہم میں نہیں رہا۔ وہ جب بھی ملتے ان کے ہونٹوں پر ایک عجیب سی مسکراہٹ کھیل رہی ہوتی۔ ہونٹوں پر جمی ہوئی یہ مسکراہٹ اور سر جھٹک کر کچھ شرمیلے سے انداز میں بات کرنے کا لہجہ ان کی پہچ� [..]مزید پڑھیں

  • ویران سڑک پہ سائیکل، تانگہ اور مردانگی

    سائیکل کا ہینڈل ایک ہاتھ سے پکڑے سائیکل لہراتا، بلند آواز میں ماہیا گنگناتا پچیس چھبیس برس کا مرد، گرما کی سہ پہر، سنسان سڑک، تیز رفتاری سے دوڑتا تانگہ اور اس کی پچھلی نشست پہ بیٹھی تین خوفزدہ عورتیں اور ایک پانچ چھ برس کی ناسمجھ بچی! سائیکل والا کبھی تانگے کے بالکل قریب آ جات [..]مزید پڑھیں

  • مسلم اقوام کا اصل المیہ ؟

    فرد ہو یا قوم جو خود کو تیس مار خاں یا میاں مٹھو سمجھتا ہے، دنیا میں ہولا گردانا جاتا ہے۔ عصر حاضر میں اصلاح احوال کیلئے خود احتسابی اور حقیقت پسندی سے آگے کوئی نسخہ کیمیا نہیں ہے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ جس کو پڑھنا چاہیے وہ لکھ رہا ہے اور جسے سننا چاہیے وہ بول رہا ہے، خودنمائی و [..]مزید پڑھیں

  • کورونا وادی میں اقتدارکی جنگ

    کورونا وائرس کی دوسری لہر نہایت ہی خطر ناک ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس لیبارٹری کے ماحول میں 28 دن تک زندہ رہ سکتا ہے۔ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کووڈ 19 کی وجہ بننے والا وائرس کسی بھی چیز کی سطح جیسا کہ بینک نوٹ، فون کی سکرین اور سٹین لیس سٹیل پر 28 دن تک رہ سکتا ہے۔ یہ نتائ [..]مزید پڑھیں

  • پی این اے سے پی ڈی ایم تک

    یہ 1976کی بات ہے۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ حزب اختلاف منتشر ہے، حالات سازگار ہیں، قبل از وقت انتخابات کرا دیں، واضح اکثریت مل جائے گی۔ اکثر حکمرانوں کو درپردہ سازشوں کا علم نہیں ہوتا۔ وہ جن رپورٹوں پر اعتماد کرتے ہیں، وہ ان کو گمراہ کرتی ہ� [..]مزید پڑھیں