تبصرے تجزئیے

  • برا وقت بھی اچھا ہوتا ہے

    مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں ہم آئنے کے سامنے جب آکے ہو کریں 19 مارچ 2020 کوجب موریشس کی سرکار نے اعلان کیا کہ تین افرادکووڈ 19 کا شکار ہوگئے ہیں تو خواجہ میر درد  ؔ کا مذکورہ بالا شعر عین مناسب معلوم ہونے لگا۔ ان تینوں افراد نے بیرونی ممالک کا سفر  کیا تھا اور ان کے سات� [..]مزید پڑھیں

  • اردو کا ایک گمنام محقق: ڈاکٹر شاہد اقبال

    اردو ادب میں بالخصوص اور دیگر زبانوں کے ادب میں بالعموم تحقیق کے کام کو مشکل ترین مانا جاتا ہے۔ اردو ادب میں تحقیقی کام اس وجہ سے حددرجہ مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے سرکاری اور ادارہ جاتی سرپرستی حاصل نہیں۔  اردو عوامی سطح پر جس قدر مقبولیت حاصل ہے، سرکاری سطح پر اس میں دلچسپی نہ ہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کیا جہانگیر ترین صاحب کی سیاسی زندگی تمام ہوئی؟

    کیا یہ جہانگیر ترین صاحب کی سیاسی زندگی کا آخری باب تھا جو تمام ہوا؟ عمران خان صاحب کی سیاسی کامیابیوں کا سب سے زیادہ خراج، ترین صاحب نے ادا کیا۔ روپیہ پانی کی طرح بہایا۔ نواز شریف کی نا اہلی کا تاوان بھی تاحیات نا اہلی کی صورت میں بھرا۔ اب خان صاحب کی نظر التفات بھی گئی۔ دامن [..]مزید پڑھیں

  • مجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے

    شہروں میں رہنے والوں کا ایک مسئلہ ہے۔ ہماری دنیا اتنے بڑے بڑے شہروں میں رہنے کے باوجود بھی بڑی مختصر سی ہوتی ہے۔ گاؤں دیہات والے کھیتی باڑی نہ بھی کریں تو کم از کم کھیتوں میں کھیلے ضرور ہوتے ہیں۔ پیسے والے دیہاتیوں کی اپنی زمینیں ہیں جہاں ان کے رکھے ہوئے ملازم زمین کا خیال ر [..]مزید پڑھیں

  • سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

    علامہ اقبال نے کہا ہے ”سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں‘‘ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ قدرت کے اس کارخانے میں واقعی سکوں محال ہے۔ کم سے کم ہمارا کارخانہ تو بالکل ہی امن وسکون سے کوسوں دور ہے۔ اس شعر کا دوسرا مصرع ہم اس لئے نقل نہیں کرتے کہ جس تغیر کا اس مصرع میں ذکر کیا گیا ہے [..]مزید پڑھیں

  • معصوم بچہ اور برہنہ بادشاہت کا اوجھل ہوتا تخت

    ہم نے عجب قسمت پائی ہے۔ کبھی جغرافیہ غداری کرتا ہے اور کہیں تاریخ کا پاؤں رپٹ جاتا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ نے بہار کے نقیب اپریل کو ظالم ترین مہینہ لکھا تھا۔ شرح اس بلیغ مصرعے کی یہ تھی کہ کہرے میں لپٹی بے رنگ زمیں سے سبز اکھوے پھوٹتے ہیں اور نئی کونپلیں سر نکالتی ہیں تو دل کے گھاؤ ہرے ہ� [..]مزید پڑھیں

  • دو تصویریں، دو کہانیاں

    کرونا کی وجہ سے ہمیں کتنا فالتو وقت مہیا ہو گیا ہے اس کا اندازہ آپ چند روز پہلے دو تصاویر پر ہونے والی گرما گرم بحث سے لگا سکتے ہیں۔ اس بحث میں عملا پاکستان کے ہر اہم شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے ماسوائے ان شہریوں کے جن کو اس وقت جان، مال اور گھر بار کے لالے پڑے ہوئے ہی� [..]مزید پڑھیں

  • جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا

    کہا جاتا ہے کہ ہر اچھے کام کی سزا ضرور ملتی ہے۔ یہی سزا پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو 4 اپریل 1979 کی تاریک صبح راولپنڈی جیل میں پھانسی کی صورت میں دی گئی۔ انہوں نے پاکستان کو ایک متفقہ آئین دیا جو کہ اب بھی تقریبا 47 سال کے بعد مختلف شرارتوں اور ملاوٹوں کے ب� [..]مزید پڑھیں

  • بھیا ایسی تھی ریاستِ مدینہ کیا ؟

    ’مدد یوں کرو کہ ایک ہاتھ سے دو تو دوسرے کو خبر نہ ہو‘۔ یہ وہ بات ہے جو ہر بچہ اسلامیات یا اخلاقیات کی درسی کتاب میں پڑھتا ہے۔ مگر جب میں نے وہ تصویر دیکھی جس میں جدید ریاستِ مدینہ کے بانی اعلی حضرت ایک برقعہ پوش خاتون کو امدادی سامان کو ڈبہ تھما رہے ہیں اور ان کے برابر میں ب [..]مزید پڑھیں