تبصرے تجزئیے

  • غریبوں کے لئے گھر اور بینکوں کے قرضے

    عمران خاں نے ایک کروڑ نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ مکان بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ نوکریاں دینے کی باری تو ابھی نہیں آئی البتہ گھر بنانے کی باری آ گئی ہے۔ یہ گھر پچاس لاکھ تو نہیں ہوں گے، ایک لاکھ ہوں گے۔ چلئے، کچھ نہیں تو ایک لاکھ ہی سہی۔ انہوں نے خوش خبری سنائی ہے کہ بالآخر غریب [..]مزید پڑھیں

  • The Choice of the Turks

    مولانا محمد علی جوہر برصغیر میں وقیع صحافت کے امام تھے۔ رچے ہوئے سیاسی موقف کو ایسی کانٹے کی تول انگریزی نثر کم کسی نے بخشی ہو گی۔ کلکتہ سے انگریزی ہفت روزہ کامریڈ اور دہلی سے اردو روزنامہ ہمدرد نکالا۔ حریت فکر اور جوش عمل کا نادر امتزاج تھے۔  برسوں انگریز کی قید کاٹی۔ جولا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک تحریر ’دراز کے لیے‘

    سوویت دور کے منحرفین کی تصنیفات آج بھی عالمی ادب کے عظیم شہ پارے شمار کی جاتے ہیں۔ الیگزاندر سولزنتسن اور بورس پاسترنیک کو اس دور میں شہرت ملی۔ ڈاکٹر ژواگو نامی عظیم ناول سولزنتسن کا کینسر وارڈ، گُلاگ آرکیپیلاگو اسی دور میں دنیا بھر میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچے۔  سٹا� [..]مزید پڑھیں

  • کرسی کوئی نہیں چھوڑتا

    دنیا کے مختلف ملکوں میں آج بھی ’تاحیات حکمرانی‘ کی روایت بدستور قائم ہے۔ پرانے زمانے میں راجے مہاراجوں اور سرداروں نے اپنی خاندانی مملکتیں قائم کی تھیں۔ پہلے بغیر ووٹ کے ایسا ہوتا تھا اور جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں تھیں اب جمہوریت کا ڈنکا بجا کر بعض حکمران آخری سان� [..]مزید پڑھیں

  • ہمارا ٹی وی کہاں گیا؟

    آج کل ترکی کا ڈرامہ ارطغرل پاکستان میں بقول کسے کھڑکی توڑ کامیابی حاصل کر رہا ہے۔ کہتے ہیں اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اس کے سامنے پاکستانی ڈرامے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ ہم نے یہ ڈرامہ نہیں دیکھا۔ البتہ اس پر جو بحث مباحثے چل رہے ہیں انہیں شوق سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمارے لکھنے [..]مزید پڑھیں

  • فلائنگ لائسنس: جعلی ہیں، جعلی نہیں ہیں
    • تحریر
    • 07/18/2020 5:05 PM
    • 6190

    پارلیمنٹ کے بارے میں یہی  بتایا جاتا ہے کہ ملک کا موقر ترین ادارہ ہے، دنیا بھر کا یہی دستور ہے اور ہمارے ہاں بھی یہی  گمان کیا جاتا ہے۔  یہاں وزرا  اور وزیر اعظم  جب فلور آف دی ہاؤس پر کوئی بات  کہتے ہیں تو وہ  حکومتی پالیسی کی عکاس ہوتی ہے،  یعنی پالیسی بیان۔&nb [..]مزید پڑھیں

  • لمس کوئی سا بھی ہو، نہیں چاہیے!

    مسافروں سے بھری ٹرین چھکا چھک دوڑتی چلی جا رہی تھی۔ زیادہ تر لوگ کھڑے تھے، کچھ سائڈ پہ نصب نشستوں پہ تشریف رکھتے تھے، ہر کوئی اپنے حال میں مست، اپنے آپ میں گم نظر آتا تھا۔ جب بھی کوئی سٹیشن آتا، کچھ لوگ اتر جاتے، کچھ سوار ہو جاتے لیکن کہیں بھی کوئی بدنظمی نظر نہ آتی۔ ہمارے ساتھ [..]مزید پڑھیں

  • پاکستانی عدلیہ: ’شیشے کا گھر اور کانچ کی گڑیا‘

    کالم کی ابتدا میں ہی واضح کر دوں کہ تحریر کے عنوان میں جو کانچ کی گڑیا یا شیشے والے الفاظ لکھے ہیں یہ ججز کے منہ سے نکلے ریمارکس ہیں جو کہ کھلی عدالت میں دیے گئے تھے اس لیے فدوی ایسی ویسی توہین عدالت کی ہر گز مرتکب نہیں۔ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے 18ویں آئینی ترمیم کیس کے دور� [..]مزید پڑھیں