تبصرے تجزئیے

  • تنویر جہاں کی ادارت اور میرا کالم

    دو روز پہلے، شام دبے پاؤں بڑھی آتی تھی۔ سارے میں دھند اور بادلوں نے چھاؤنی چھائی تھی۔ بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکراتیں تو دل مچل مچل اٹھتا کہ برآمدے میں کھڑے ہو کر بارش سے لطف اٹھایا جائے۔ بارش سے اپنی دوستی بہت پرانی ہے۔ میں نے ابھی ٹھیک سے چلنا نہیں سیکھا تھا۔ برسات� [..]مزید پڑھیں

  • بلی کے گلے میں گھنٹی والا معاملہ

    اس ملک کو بنے آٹھ عشرے اور اس عاجز کو اس ملک کی سیاست کو دیکھتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے پانچ عشرے ہونے والے ہیں۔ ملکی سیاست کو پچاس سال دیکھنے کے بعد یہ دعویٰ تو رہا ایک طرف کہ میں اس ملک کی سیاست کو سمجھتا ہوں، اس بارے میں گمان کرنا بھی خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کیوں کہ � [..]مزید پڑھیں

  • ایران پر امریکی حملے کا امکان؟

    کیا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟ ایک ہی سوال ہے،دنیا جس کا جواب جاننا چاہتی ہے۔ یہ اور بات کہ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔   اس کا سبب صدر ٹرمپ کی ناقابلِ اعتبار شخصیت ہے۔ ان کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ ان کی دوستی کا کوئی بھروسہ نہ ان کی � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مصطفیٰ کمال کی سیاست

    مصطفیٰ کمال کی ’’سیاسی بصیرت‘‘ میری نگاہ میں 2018 کے انتخابات کے قریب بے نقاب ہوگئی تھی۔ موصوف ایم کیو ایم کی جنرل مشرف کی سرپرستی میں قائم ہوئی ’’مقامی حکومت‘‘ کی ایک کامیاب اور حتمی مثال کی صورت مشہور کروائے گئے۔ بات یہ پھیلائی گئی کہ اگر وطن عزیز کے ہر [..]مزید پڑھیں

  • اُوپر، نیچے اور درمیان

    کھانا تو ہم سب ایک لاکھ روپیہ یا زیادہ ماہوار کمانے والے تین ٹائم ہی کھاتے ہیں۔ موسم کے سارے پھل بھی کھاتے ہیں۔ ڈرائی فروٹ پر بھی ہاتھ صاف کرتے ہیں، شاندار یا کھٹارا کار بھی ہمارے زیراستعمال ہوتی ہے۔  فیملی گیدرنگ میں چہکتے بھی ہیں، دوستوں اور فیملی کے ساتھ ناردرن ایریاز ک� [..]مزید پڑھیں

  • جبر کی سائنس

    چھٹی صدی عیسوی کا عرب شاعر امرؤ القیس ایک قصیدے میں کہتا ہے کہ جسے اپنی زبان ہی پر قابو نہ ہو، وہ زندگی کی باقی آزمائشوں میں کیا خاک اڑائے گا۔ امرؤ القیس سے کوئی سو برس بعد مولا علی نے فرمایا ’کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ‘۔ عزیزو ہماری کیا بساط! زندگی کا احسان ہے کہ ہم نے ا [..]مزید پڑھیں

  • ایک تھا ونڈر بوائے

    ونڈر بوائے کا تذکرہ چلا تو یاد آیا تحریک انصاف کا بھی ایک ونڈر بوائے ہوتا تھا، کوئی بتا سکتا ہے کہ قافلہ انقلاب کا یہ مردِ بحران آج کل کہاں پایا جاتا ہے؟ اس جواں بخت کا نام پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں پہلی بار سننے کو ملا۔ سرگوشیاں ہونے لگیں کہ زرداری حکومت کا چل چلاؤ ہے کیون� [..]مزید پڑھیں

  • اعتبار ساجد، ہم شرمندہ ہیں

    کل صبح سویرے لاہور میں اعتبار ساجد کے انتقال کی خبر ملی تو افسردگی اور غم کی گویا ایک چادر سی تن گئی۔ ایک بہت بڑا شاعر اور اتنا ہی بڑا انسان یوں خاموشی سے رخصت ہو گیا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ میں نے سکول کے زمانے میں اعتبار ساجد کو دیکھا اور اُن کی شاعرانہ وضع قطع اور [..]مزید پڑھیں

  • مولانا فضل الرحمان کی ریاستی نظام سے بد دلی

    دورِ حاضر کی ہر موذی بیماری کا سبب بالآخر ذہنی دباؤ ثابت ہورہا ہے۔ اس سے بچاؤکے لئے ہر ڈاکٹر اپنے ہاں گئے مریض کو ان دنوں دیگر احتیاطوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا سے پرہیز بھی لازمی ٹھہرا رہا ہے۔  محض صحافت سے رزق کماتے افراد کے لئے مگر یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ بڑی مشکل سے سوش [..]مزید پڑھیں

  • ماہرین شریعت کیا کر رہے ہیں؟

    ہمارے دفتر میں ایک کلرک ہوا کرتا تھا جو روزانہ دیر سے کام پر آتا تھا۔ ایک دن میں نے اسے بلا کر سرزنش کی تو کہنے لگا کہ سر دراصل میں روزانہ صبح سورہ البقرہ کی تلاوت کرتا ہوں۔ اِس لئے دیر ہو جاتی ہے۔ یہ ہمارا عمومی رویہ ہے، اپنی نالائقی اور کام چوری کو چھپانے کیلئے مذہب کی پناہ ل [..]مزید پڑھیں