تبصرے تجزئیے

  • طلبہ یکجہتی مارچ میں سوشلسٹ انقلاب کی کھوج

    29 نومبر 2019 کو پاکستان کے پچاس سے زیادہ چھوٹے بڑے شہروں بشمول لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد میں کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلبہ نے اپنے مطالبات کی حمایت میں سڑکوں پر احتجاجی مارچ کیا۔ طلبہ یکجہتی مارچ میں طالبات کی ایک بڑی تعداد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 1968 کی [..]مزید پڑھیں

  • پیپلز پارٹی کی 52 ویں سالگرہ پر

    ’باہر نکلیں اگر ہم سے اتفاق کرتے ہیں تو ہمیں ووٹ ڈالیں۔‘ باہر نکلیں اگر ہم سے متفق نہیں تو ہمارے خلاف ووٹ ڈالیں‘ یہ پیپلزپارٹی کے منشور کی آخری دو لائنیں ہیں۔ پاکستان میں قومی سطح کی واحد سیاسی  جماعت جس میں یہ بات کہنے کا ظرف، حوصلہ اور سمجھ ہے۔ پیپلز پارٹی کی دوس [..]مزید پڑھیں

  • نئے انتخابات کا مطالبہ

    پاکستان میں انتخابات کی تاریخ ہمیشہ سے متنازعہ رہی ہے۔ کوئی بھی فریق جو انتخاب ہارتا ہے وہ انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں اور ان کے بقول ہمیں ایک منظم سازش کے تحت انتخابی جیت سے دور رکھا گیا ہے۔  عمومی طور پر انتخابات او راس کے نتائج میں اسٹیبلیشمنٹ کے کردار کو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مولانا جلال الدین رومی پر بین الاقوامی سیمینار

    ترکی کے شہر قونیہ کی سلجق یونیورسٹی میں 20 نومبر 2019 کو مولانا جلال الدین رومی پر ایک بین الاقوامی  سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ یہ سیمینار شعبہ مولانا جلال الدین رومی اور شعبہ اردو نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔  اس سیمینار میں ایک چار رکنی وفد کو دعوت دی گئی تھی۔  فہیم ا [..]مزید پڑھیں

  • برف باری میں گرم گفتاری

      (  یہ تحریر  گذشتہ شام میلہ ہاؤس میں منعقد شامِ دوستاں میں پڑھی گئی) شاعراں ، دوستاں ، جیشِ دانشوراں!!! کیا سُنو گے مرے ہجر کی داستاں! یہ پچھتر برس کی ہے آہ و فُغاں تم نے دیکھا ہے کب مجھ سا طفلِ نہاں وہ جو کاندھے پہ لادے ہے کوہِ گراں اہلِ لفظ و معانی میں اک بے زُ� [..]مزید پڑھیں

  • ملکی تقدیر کے فیصلے یا حاکمیت کی کھینچاتانی

    کسی بھی معاملے کا تجزیہ کرتے وقت اس کے ہر پہلو کو سامنے رکھنا چاہئے،چاہے کوئی پہلو امکانی ہی کیوں نہ ہو،اس کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ خاص طور پر تب کہ جب گزشتہ کچھ عرصے سے اسٹیبلشمنٹ کا کنٹرول حکومت اور پارلیمنٹ سمیت اداروں پہ بھی حاوی اور قوی ہونا نمایاں ہے۔ سپریم کورٹ کی � [..]مزید پڑھیں

  • طلبہ تنظیموں کی بحالی

    پاکستان کے اہل دانش اور سیاسی، علمی و فکری اشرافیہ میں طلبہ تنظیموں کی بحالی میں رائے عامہ تقسیم نظر آتی ہے۔ ایک طبقہ ان طلبہ تنظیموں کی پرزور بحالی کا حامی ہے اور ان کے بقول طلبہ کو سیاسی او ر سماجی شعور کے عمل سے کسی بھی طور پر دور نہیں رکھا جاسکتا۔  اس طبقہ کی رائے ہے کہ طل [..]مزید پڑھیں

  • ماسکو ٹرائل اور حب الوطنی کا مقابلہ

    بارے خیریت رہی۔ 27 نومبر کی رات گزر گئی۔ کس قیامت کی رات تھی، بیم و رجا کا کھیل تھا، ناموسِ جان و دل کی بازی لگی تھی۔ رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گذشت۔ ہماری تاریخ میں ایسی بہت سی راتیں گزریں جب آنکھیں روزن دیوار زنداں ہو گئیں۔ یہ روزن کی سہولت بھی مرزا غالب کو دلی میں میسر تھی۔ ہما [..]مزید پڑھیں