تبصرے تجزئیے

  • نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

    اب تو لگتا ہے کورونا ہماری زندگی کا حصّہ بن چکا ہے۔ بنے بھی کیوں نہیں، جس طرح سے کورونا نے دنیا میں دہشت پھیلائی ہے اس سے دنیا سہم کر رہ گئی ہے۔ تاہم دنیا میں اس سے قبل ہمیشہ ہی کئی وباؤں کا خوف کبھی نہ کبھی طاری رہا ہے۔ مثلاً ملیریا، ٹائفایڈ، نمونیا،ڈینگو، طاعون اور نہ جانے کیاک [..]مزید پڑھیں

  • معلومات کا سونامی

    ایک دور تھا جب معلومات کے ذرائع بہت محدود تھے اور دنیا بھر میں کیا ہورہا ہے اس سے عوام کی اکثریت نا بلد رہتے تھے۔ حصول علم کے مواقع بھی کم اور اکثریت کی دسترس سے دور تھے۔ سب سے پہلے اخبارات اور ریڈیو کے آنے سے اطلاعات اور معلومات کا دروزہ کھلا۔ ریڈیو کی ایجاد نے لوگوں کو ورطہ حی [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کا بھارتی ایجنڈا

    مسئلہ محض پاکستان کے ساتھ ہی نہیں بلکہ بھارت کے  تمام ہمسایہ  ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ  ہیں۔اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت ا س خطہ میں تمام ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اس کی سیاسی بالادستی  قبول کرے۔ یہ ہی دباؤپاکستان پر بھی ہے کہ وہ اس خطہ میں بھارت کی بالادستی کو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہر خرابی مافیا پر ڈالنے کا کھیل

    جب بھی کوئی معا ملہ حکومت کے ہاتھ سے نکلتا ہوا نظر آتا ہے تو فوراً ہی اس صورتحال کا ذمہ دار کسی نہ کسی تصوراتی مافیا کو قرار دے دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم بھی کہتی ہے کہ’ آئو مافیا ،مافیا کھیلیں‘۔  اب جبکہ عین فصل کاٹنے کے ساتھ ہی گندم کا بحران سر پر آگیا ہے ا [..]مزید پڑھیں

  • غریبوں کے لئے گھر اور بینکوں کے قرضے

    عمران خاں نے ایک کروڑ نوکریاں دینے اور پچاس لاکھ مکان بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ نوکریاں دینے کی باری تو ابھی نہیں آئی البتہ گھر بنانے کی باری آ گئی ہے۔ یہ گھر پچاس لاکھ تو نہیں ہوں گے، ایک لاکھ ہوں گے۔ چلئے، کچھ نہیں تو ایک لاکھ ہی سہی۔ انہوں نے خوش خبری سنائی ہے کہ بالآخر غریب [..]مزید پڑھیں

  • The Choice of the Turks

    مولانا محمد علی جوہر برصغیر میں وقیع صحافت کے امام تھے۔ رچے ہوئے سیاسی موقف کو ایسی کانٹے کی تول انگریزی نثر کم کسی نے بخشی ہو گی۔ کلکتہ سے انگریزی ہفت روزہ کامریڈ اور دہلی سے اردو روزنامہ ہمدرد نکالا۔ حریت فکر اور جوش عمل کا نادر امتزاج تھے۔  برسوں انگریز کی قید کاٹی۔ جولا [..]مزید پڑھیں

  • ایک تحریر ’دراز کے لیے‘

    سوویت دور کے منحرفین کی تصنیفات آج بھی عالمی ادب کے عظیم شہ پارے شمار کی جاتے ہیں۔ الیگزاندر سولزنتسن اور بورس پاسترنیک کو اس دور میں شہرت ملی۔ ڈاکٹر ژواگو نامی عظیم ناول سولزنتسن کا کینسر وارڈ، گُلاگ آرکیپیلاگو اسی دور میں دنیا بھر میں شہرت کی بلندیوں تک پہنچے۔  سٹا� [..]مزید پڑھیں