تبصرے تجزئیے

  • سوال کی تنہائی اور ہجوم کی اطاعت

    ہم ان دنوں ایک طرفہ آزمائش سے دوچار ہیں۔ بظاہر بلند بانگ نعروں کا شور ہے، عشروں سے سیکھا ہوا پامال آموختہ ایک بیزار کن تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے۔ زمینی حقائق کے کچھ نیم تاریک گوشے لمحے بھر کو روشن ہوتے ہیں اور پھر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ حکومت کے کچھ ارکان کو غیر ذمہ دار گیڈ [..]مزید پڑھیں

  • ذات پات بدترین نسل پرستی ہے

    انسانی حقوق کی تعلیم کا کام کرتے ہوئے یہ تجربہ ہوا کہ ملک کے مختلف حصوں میں اقدار اور معاشرتی پسماندگی کی صورتیں مختلف ہو سکتی ہیں، شدت اور درجہ بندی میں کوئی فرق نہیں۔ تشدد کی ثقافت پاکستان کے ہر منطقے اور ہر گروہ میں موجود ہے۔ اپنے سے مختلف کو غلط اور کمتر سمجھنے کا رویہ عام ہ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کراچی کا سیاسی نوحہ

    ہمارا سیاسی المیہ یہ ہے کہ ہم دنیا بھر میں حکمرانی کے نظام کو شفاف بنانے کے مختلف تجربات سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ہم روائتی طور پر حکمرانی کے نظام کو قائم کرکے عام آدمی کی زندگی میں مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں او رہماری حکمرانی کا نظام بنیاد ی طو ر پرعام آدمی کے مفادا� [..]مزید پڑھیں

  • امت مسلمہ کا مفروضہ اور کشمیریوں کی جدو جہد

    تقسیم ہند کے بعد بھارت میں جواہر لال نہروکے علاوہ کوئی وزیر اعظم کشمیریوں سے اتنا سنجیدہ، خوشنما اور واضح وعدہ نہیں کر سکا ہے۔ 7اگست1952کو جواہر لال نہرو نے کہا تھا ہم کشمیر کے لوگوں کی مرضی کے خلاف بندوق کے زور پر ان سے کوئی بات نہیں منوانا چاہتے۔ اگر جموں کشمیر کے لوگ ہمارے ساتھ [..]مزید پڑھیں

  • نظریاتی نعرے میں سوال کی سرگوشی

    ٹھیک 80 برس پہلے اواخر اگست کے یہی دن تھے۔ نازی جرمنی کا وزیر خارجہ ربن ٹراپ اشتراکی روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچا۔ جہاں اس نے سوویت وزیر خارجہ مولوٹوف کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کیے کہ جرمنی اور سوویت یونین ایک دوسرے کے خلاف جنگ نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ نظریاتی سوچ رکھنے والوں ک [..]مزید پڑھیں

  • حسین شیرازی کی کتاب ’بابو نگر‘

    حسین احمد شیرازی صاحب کی کتاب 'بابونگر' کا میں نے بہت تذکرہ سنا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ پاکستان گیا تو خرید لاؤں گا۔پاکستان جا کر میں نے اسلام آباد کی چند دکانوں سے پوچھا بھی لیکن کتاب نہ ملی۔حُسنِ اتفاق دیکھئے کہ انہی دنوں کتاب کے مصنف یعنی حسین شیرازی صاحب نے رابطہ کیا۔ می� [..]مزید پڑھیں

  • عوام اور حکمران، کیا دو طبقات ہیں؟

    مسلم دنیا میں، کیا حکمران اور عوام ایک دوسرے سے بے نیاز ہیں؟ کیا دونوں کی دنیا الگ الگ ہے؟  آدرش، نصب العین، جذبات، مراد، کسی معاملے میں دونوں ایک پیج پر نہیں ہیں؟ ہمارے ہاں یہی سمجھا جاتا ہے۔ کشمیر، فلسطین، افغانستان جیسے بین الاقوامی معاملات ہوں یا غربت و افلاس جیسے مقا [..]مزید پڑھیں