تبصرے تجزئیے

  • جامعات کا نظام کیسے درست ہوگا؟

    پاکستان کا بنیادی مسئلہ تعلیم کا بگاڑ ہے۔ پرائمری تعلیم سے لے کر ہائر ایجوکیشن تک ہمیں معاملات میں ایسی بنیادی نوعیت کی خرابیاں غالب نظر آتی ہیں جو عمومی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہے۔ پہلا بنیادی مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ تعلیمی ترجیحات کا شور تو بہت سننے کو ملتا ہے،مگر ع� [..]مزید پڑھیں

  • تیری بکل دے وچ چور

    ڈائس کا گھیراؤ کر لیا گیا اور مسلسل نعرے بازی کی گئی۔ اس دوران دو تین بار شیخ رشید نے بولنا شروع کیا۔ شیخ رشید کی آ واز پیپلز پارٹی کے احتجاج پر بھاری تھی۔ وہ شہباز شریف کے الزامات کا جواب دینا چاہتے تھے۔ جواب انہوں نے دے بھی دیا اور ان کے جواب دینے کی تصدیق خود جناب اسپیکر نے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بڑے مقابلے سے پہلے بڑی شکست، ذمہ دار کون؟

    ایک بار معروف تجزیہ کار این چیپل نے کہا تھا کہ اگر کامران اکمل کی بیٹنگ ڈان بریڈمین جیسی ہوتی تب بھی وہ اتنے رنز نہیں بنا پاتے جتنے وہ اپنی وکٹ کیپنگ کی بدولت دے دیتے ہیں۔ کامران اکمل تو خیر ماضی کا قصہ بن گئے ہیں لیکن یہ جملہ آج بھی پاکستان کی فیلڈنگ پر اتنا ہی صادق آتا ہے جتنا 201 [..]مزید پڑھیں

  • بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے

    پاک فلائٹ کے مسافروں کو وہ دن ابھی بھولا نہیں ہو گا کہ جب مسافر سیٹ بیلٹ باندھے جہاز اڑنے کے منتظر تھے کہ اچانک طیارے میں جہاز کو اڑانے والے کیپٹن کی آواز گونجی کہ انتظامیہ نے طیارہ اڑانے کے لئے دوسرے کپتان کی جگہ ان کا انتخاب کیا ہے۔ ان کا نام کیپٹن عمران خان ہے۔ یہ اعلان سننا ت� [..]مزید پڑھیں

  • الطاف حسین: ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر

    کیا زمانہ تھا جب الطاف حسین کو پہلی بار منی لانڈرنگ کے شبہ میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے دفتر میں سوال و جواب کے لئے طلب کیا گیا تو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کو باقاعدہ فوری بیان جاری کرنا پڑا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ شہری اپنا کاروبار جاری رکھیں۔ یہ اعلان اس لئے [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان کا حقیقی دشمن کون ہے؟

    پاکستان 70 برس سے سیاسی افراتفری کا شکار ہے۔ آزادی کے بعد پہلے آٹھ برس میں 22 صوبائی حکومتیں برطرف کی گئیں یا انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ کسی ایک صوبائی حکومت کے خاتمے میں عدم اعتماد کا دستوری طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ اس دوران پانچ حکومتیں مشرقی بنگال اور آٹھ حکوم [..]مزید پڑھیں

  • سفر در سفر : 15 ۔ الوداع لاہور

    لاہور ایک تصویری البم ہے ، ایک حیرت خانہ ء عجائبات ہے جیسے عمرو عیار کی زنبیل ہو جس میں ایک سے بڑھ کر ایک جادوئی منظر  محفوظ ہے، تاریخی مقامات اور نوادرات ہیں ، مقبرے اور شاہی محلات ہیں ۔ غرض لاہور کیا ہے پنجاب کی ثقافت اور تہذیب کا شیش محل ہے ۔یہ داتا کی نگری ہے ، یہ اہل علم � [..]مزید پڑھیں

  • خوشیوں کے باغ سے بوش کے جہنم تک

    وقفہ عمر کا وہ حصہ آن لگا ہے جہاں حیرت آنجہانی، خبر ناگہانی اور دل اوراقِ خزانی ہو جاتے ہیں۔ انور سجاد کے رخصت ہونے کی اطلاع ایسے پہنچی جیسے اجل دیدہ قیدیوں کو خوشیوں کے اس باغ کی جھلک دکھائی دے جس کی کھوج میں نکلنے والے پندرہویں صدی کے ڈچ مصور بوش کے جہنم میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ [..]مزید پڑھیں