تبصرے تجزئیے

  • پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

    مقابلہ اب یہ ہے کہ کون زیادہ دریدہ دہن ہے۔ تبدیلی یہ آئی ہے کہ عمران خان صاحب نے اس انفرادی عمل کو ادارے کی صورت دے دی۔ پاکستانی سیاست میں اس کا با جماعت اظہار، تحریکِ انصاف سے پہلے نہیں تھا۔ خان صاحب کی جماعت نے اسے سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا اور پھر یہی سیاست کا چلن ٹھہرا۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بین الاقوامی طلبہ کنونشن او رمکالمہ کا کلچر

      پاکستانی نوجوانوں میں مکالمہ اور رواداری پر مبنی کلچر کمزور ہوا ہے۔ ہم مکالمہ کی بجائے طاقت کو اپنا ہتھیار سمجھتے ہیں اور اسی بنا پر نئی نسل میں  انتہا پسندی اور تشد د کے کلچر کو طاقت ملتی ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے طالب علموں کو محض نصابی کتابوں تک محدود کردیا ہے او ران کی غ� [..]مزید پڑھیں

  • سفر در سفر ۔ 2 : ل سے لاہور

    میں علم الاعداد کا ماہر ہوں اور نہ ہی فلکیات میں  درک  رکھتا ہوں لیکن ادب کے ایک دیرینہ طالب علم کے طور پر لفظوں کے باطن میں اُترنا اور حسبِ توفیق اُن کے پوشیدہ اور مخفی معانی تلاش کرنا میرا شُغل بلکہ وظیفہ ہے جس میں اللہ نے مجھے ہمیشہ مشغول رکھا ہے ۔ لاہور کی تاریخ بہت پرا [..]مزید پڑھیں

  • نعروں سے معاشی کارکردگی میں بہتری!

    پاکستان میں جاری داخلی خارجی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کاری کا عمل رک چکا ہے۔ منڈیاں اور اسٹاک مارکیٹ کساد بازاری سے دو چار ہیں، چین،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے ملنے والے مالیاتی پیکج کی وجہ سے وقتی طور پر ادائیگیوں کے معاملات بہتر بنانے میں مدد ملی ہے مگر ع [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان اور اردو کے ثقافتی سفیر

    کسی بھی زبان اور ثقافت کے فروغ اور ترویج میں ذرائع ابلاغ کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ دور جدید میں تو یہ حقیقت اور بھی واضح ہوگئی ہے جہاں زندگی کے ہر شعبہ میں میڈیا کے گہرے اثرات ہیں۔ ٹیلی وژن، فلم، انٹرنیٹ اور میڈیا،لوگوں کی زندگی کا رخ متعین کررہے ہیں اور انہی سے وابستہ شخصیات ل� [..]مزید پڑھیں

  • نظام کی درستگی کا مسئلہ

    بنیادی طور پر ایک بڑا بحران نظام کی درستگی، شفافیت او رانصاف پر مبنی نظام کا ہے۔ ایک ایسا نظام جو لوگوں جو عام آدمی میں اپنی ساکھ بھی قائم کرسکے اور لوگوں کی بنیادی ضرورتوں کو بھی پورا کرسکے۔ہماری سیاسی،سماجی جدوجہد عملی طور پر نظا م کی درستگی کے نعروں کے درمیان ہوتی ہے او رہر [..]مزید پڑھیں

  • بادشاہ کے ضمیر بردار اور خاموشی کی ثقافت

    آج استاذی پروفیسر حمید احمد خان کی ایک روایت سے بات شروع کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے ’علامہ اقبال کے ہاں ایک شام‘ کے عنوان سے 10 نومبر 1937 کی ایک نشست کا احوال لکھا تھا۔ اقتباس ملاحظہ کیجئے :  ’علی بخش نے آ کر مہر صاحب اور سالک صاحب کے آنے کی اطلاع دی۔ مدیران ”انقلاب&ldq [..]مزید پڑھیں

  • اعلی شہری خصوصیات اور فن و ثقافت کا مرکز ویانا

    ویانا، آسٹریا کا دارالحکومت ہے اور ملک کےمشرق میں دریائے ڈوناؤکے کنارے واقع ہے۔ اس کا تاریخی ورثہ ،  دنیائے فن و ثقافت کے ذہین ترین انسانوں کے یہاں مقیم ہونے کا مرہون منت ہے۔ یہاں عظیم موسیقار بیتھ ہوفن، موتسارٹ اور عظیم فلسفی سگمنڈ فرائڈ  جیسے دنیا کے مایہ ناز ہستیوں نے � [..]مزید پڑھیں