تبصرے تجزئیے

  • کشمیر کے بعد بھارت کا اگلا شکارمسلم پناہ گزین
    • تحریر
    • 12/07/2019 3:00 PM
    • 3850

    کشمیر کی آئینی حیثیت  کو بزور تبدیل کرنے کے بعد بی جے پی سرکار  نے مسلم دشمنی کا اگلا قدم اٹھا لیا۔  ساٹھ سال سے  بھی قبل  پاس کئے گئے قانونِ شہریت میں بنیادی تبدیلیاں لانے  کا ترمیمی  مسودہ  اسی ہفتے کابینہ نے منظور کر لیا۔ یہ مسودہ  منظوری کے لئے اب ایوانِ [..]مزید پڑھیں

  • اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟

    خاموشی کو شاید ہی پہلے اتنا زیادہ شور مچاتے دیکھا ہے۔ ایک ایسی حکومت جس نے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پورے زور و شور سے یہ وعدے کیے تھے کہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لائے گی، اس کی ایک ایسے وقت میں خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، جب لندن میں اتنی بڑی مچھلی پکڑی جاچکی ہو۔  اور ضبط شدہ رقم کو [..]مزید پڑھیں

  • …جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں

    پئے فاتحہ کوئی آئے کیوں کوئی چار پھول چڑھائے کیوں کوئی آ کے شمع جلائے کیوں میں وہ بیکسی کا مزار ہوں یہ دردناک سوالات ہندوستان کے آخری مغل بادشاہ نے شاعرانہ پیرائے میں پوچھے تھے۔ اپنی بے بسی، بے ثباتی اور بے وقعتی کے بارے میں بہادر شاہ ظفر نے جو شاہکارغزل تخلیق کی یہ اس کے د [..]مزید پڑھیں

loading...
  • محبِ وطن کون؟

    سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے اور طلبہ یونین کی بحالی کی راہ ہموار کر دی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال بھٹو زرداری نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔ لیکن یہاں کیا ہوا؟ طالب علم رہنماؤں اور طلبہ یکجہتی مارچ کا انتظام کرنے والوں کے خلاف بغاوت اور غداری کے مقدمے ب [..]مزید پڑھیں

  • سلجوق یونیورسٹی اور استنبول کا گرینڈ بازار

    لندن سے استنبول جاتے وقت ہم نے ارادہ کیا تھا کہ نہ ہم دن کی پرواہ اور نہ ہی وقت کا تعین کریں گے۔ کیونکہ لندن کی مصروف ترین زندگی نے مجھے وقت اور دن کا ایسا پابند بنا دیا ہے کہ میں گھڑی اور تاریخ کا غلام بن کر رہ گیا ہوں۔ ویسے یہ بات بری بھی نہیں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے میری زندگی می [..]مزید پڑھیں

  • طلبہ یونین: سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

    پاکستان میں دوسرے طبقوں کی طرح طلبہ میں بھی پچھلے کئی سالوں سے مختلف پابندیوں کے حوالے سے بےچینی پھیلی ہوئی ہے۔ ماضی میں عموماً اپنے مطالبات منوانے کے لیے وہ اپنے کالجوں یا جامعات کے کیمپس استعمال کرتے تھے اور اپنے مطالبات جو عام طور پر ان کی تعلیم سے متعلق ہوتے تھے، من� [..]مزید پڑھیں

  • الحمد للہ ایکسٹینشن کی ٹینشن ختم ہوئی

    شکر الحمد اللہ اسلام آباد سے ایکسٹینشن کی ٹینشن ختم ہو گئی۔ اس قوم کے ہیرو جنرل قمر باجوہ ایکس نہیں ہوئے بلکہ ایکسٹینڈ ہو گئے۔ یہ کیسی بدقسمتی ہوتی اگر وہ 28 تاریخ کو فوجی سربراہ کے عہدے پر محض تین سال گزارنے کے بعد ریٹائر ہو جاتے۔ ہم سب یہ کیسے برداشت کرتے؟ اس دکھ کو چھ [..]مزید پڑھیں

  • لگاتار سردمہری کا دسمبر گزرتا ہی نہیں

    عرش صدیقی کو ملال تھا کہ دسمبر آ گیا ہے۔ دسمبر کے تو اکتیس دن ہوتے ہیں اور یہ سرد دن بہرحال گزر جاتے ہیں۔ ہمارا دکھ یہ ہے کہ ریاست کی سرد مہری پر بہتر دسمبر گزر چکے ہیں۔ اس زمستانی موسم کی ہڈیوں تک اتر جانے والی بے بسی ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ استاد محترم فرمایا کرتے تھے کہ آمر [..]مزید پڑھیں

  • پیپلز پارٹی کی 52 ویں سالگرہ پر

    ’باہر نکلیں اگر ہم سے اتفاق کرتے ہیں تو ہمیں ووٹ ڈالیں۔‘ باہر نکلیں اگر ہم سے متفق نہیں تو ہمارے خلاف ووٹ ڈالیں‘ یہ پیپلزپارٹی کے منشور کی آخری دو لائنیں ہیں۔ پاکستان میں قومی سطح کی واحد سیاسی  جماعت جس میں یہ بات کہنے کا ظرف، حوصلہ اور سمجھ ہے۔ پیپلز پارٹی کی دوس [..]مزید پڑھیں