تبصرے تجزئیے

  • اداروں میں ٹکراؤ کی پالیسی کے ممکنہ نتائج

    حکمرانی کے نظام کی  کنجی اداروں کی فعالیت اور استحکام ہے۔ یہ  اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب اداروں کے درمیان اہم آہنگی موجود ہو اور وہ ایک دوسرے کی دائرہ کار میں عدم مداخلت کی پالیسی پر کاربند ہوں۔  پاکستان میں بدقسمتی سے اداروں کے درمیان عدم اعتماد اور ٹکراؤ ک [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مظفر اعجاز کے کالموں کا مجموعہ

    کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد یورپ اور امریکہ میں توکتب بینی کی شرح میں کوئی خاص کمی نہیں آئی البتہ پاکستان جہاں پہلے ہی یہ شرح قابل رشک نہیں تھی، مزید گر گئی ہے۔ بزرگ نسل، اساتذہ اور علم و ادب سے وابستہ طبقے کو شکایت ہے کہ ہماری نئی نسل کتاب سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ جبکہ نئی نسل کا کہنا � [..]مزید پڑھیں

  • غاصبو! تاریخ سے سبق مت سیکھنا

    تاریخ وہ علم ہے جو ہمارے آج کا رشتہ گزرے ہوئے ماضی سے جوڑتا ہے اور ہمیں مستقبل میں بڑھنے کے لئے رہنمائی فراہم کرتا ہے ۔ پوری دنیا کے اسکولوں میں تاریخ  ایک آزاد مضمون کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ مگر پاکستان وہ بدقسمت ملک ہے جہاں تاریخ بھی توڑ مروڑ کر ریاستی بیانیے کے مطابق مط� [..]مزید پڑھیں

  • یروشلم اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ناپاک ارادے

    6دسمبر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس اعلان سے کہ’ یروشلم اسرائیل کی راجدھانی ہے‘ ۔ اس خبر سے جہاں دنیا کے اہم لیڈروں کے ہوش اُڑ گئے تو وہیں فلسطین کے لوگوں میں غصّے کی لہر دوڑ گئی۔ اگر دیکھا جائے تو اس خبر سے دنیا کہ تمام مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ کیونکہ مسلمانو� [..]مزید پڑھیں

  • خام خیالی سے لبرل ازم تک

    ہم پاکستان کی نظریاتی سیاست کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوگا یہاں پر دائیں بازو کی جماعتیں اور پریشر گروپس مضبوط ہوئے ہیں جبکہ ترقی پسند اور روشن خیال جماعتیں اور اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے کمزور ہوئے ہیں۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد جنہیں سوشلسٹ کہا جاتا ہے اگر وہ معا� [..]مزید پڑھیں

  • صرف نعروں سے تبدیلی لانا ممکن نہیں

    یہ ہمارے ماتھے کے لیکھ ہیں۔ یہ ہمارا مقدر ہے ۔ یہ ہماری قسمت ہے ۔ یہ خدا کالکھا ہے ۔ ہماری مصیبتیں، ہماری آ سائشیں، ہمارے غم، ہماری خوشیاں، یہ سب ہمارے نصیب میں لکھا جا چکا ہے جسے ہم بدل نہیں سکتے ۔ طبقاتی تضادات، نا انصافیاں اور نا ہمواریاں زندگی کی حقیقت ہیں۔ زمینی حقائق ہیں۔ � [..]مزید پڑھیں

  • محترم وزیر اعظم، اس مرتبہ بیک فٹ نہیں چلے گا

    جب مستقل لکھنا شروع کیا تھا تو وہ طالبان کے عروج کا دور تھا۔ ہر دوسرے دن کہیں نہ کہیں خود کش حملے یا بم دھماکے کی خبر ملتی تھی۔ آستینیں چڑھا کے پورے غم اور غصے کے ساتھ بلاگ لکھا جاتا تھا۔ پوری کوشش رہتی تھی کہ دنیا کو جگایا جائے، ان بھیڑیوں کی پہچان کرائی جائے جو بھیڑوں کی کھال ا [..]مزید پڑھیں