تبصرے تجزئیے

  • اسے کہنا، دسمبر آ گیا ہے

    لفظ تو یہیں کہیں خوار و زبوں پھرتا ہے۔ پھر ایک شاعر آتا ہے۔ وقت کی دھول میں سرگرداں، خلق کے قدموں میں پامال لفظ کو محبت سے اٹھاتا ہے، اسے جھاڑ پونچھ کر تجربے کی خدوخال بخشتا ہے، کیفیت کے سیاق و سباق میں رکھ دیتا ہے۔ لفظ شاعر کی سطروں میں سج جائے تو جانو، سپھل ہو گیا۔ شاعر لفظ کو ز� [..]مزید پڑھیں

  • دھرنا، عدالت اور سیاست

    سینیٹ میں جب انتخابی اصلاحات ایکٹ2017سابق وزیر قانون زاہد حامد پیش کررہے تھے تو مسلمان ہونے کے حلف نامے کے عنوان سے ختم بنوت کے قانون پر یقین رکھنے کے قانون پر پہنچے توجمعیت علماء اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے نے نشاندہی کروائی کہ یہاں الفاظ  تبدیل کئے گئے ہیں۔  اصل لفظ ح� [..]مزید پڑھیں

  • ترکی کے شہر کیسری کی سیر

    22 نومبر سے 26 نومبر تک کے چار روزہ ترکی کی سیر کرنے اور  اور وہاں اردو کے فروغ کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا جو دلچسپ اور اطمینان کا باعث رہا۔ برلن سے میں ترکش ائر ویز کے ذریعہ استنبول پہنچا اور اوسلو سے میرے دوست اور افسانہ نگار نگار فیصل نواز چوہدری بھی وہاں آگئے۔ ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تینوں کافر کافر آکھدے ….

    عقیدے کے اختلاف یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر ایک دوسرے کو کافر قرار دینا انوکھی روش یا نئی روایت نہیں ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب دہلوی نے اہل سنت کی طرف سے اپنی کتاب ’فتاوی عزیزی‘ میں شیعہ کے خلاف کفر کا فتویٰ دیا۔ دوسری طرف اہل تشیع مسلمانوں نے اپنی کتاب ’حدیقہ شہداء‘ می [..]مزید پڑھیں

  • یادیں ، وضاحتیں اور باتیں
    • تحریر
    • 12/01/2017 5:43 PM
    • 3459

    ہمارے ساتھی کالم نگار شاکر حسین شاکر نے اپنے ایک حالیہ کالم میں اس زیاں کار رجحان کی بڑی خوبصورتی سے نشاندہی کی جس کا ہمارے نوجوانوں سمیت ہم ایسے بھی شکار ہیں۔ لکھتے ہیں ، ٌ فیس بک پر بیٹھتے ہوئے اکثر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کا فائدہ اپنی جگہ لیکن اس کے آنے کے بعد وقت کا ضیاع بہ� [..]مزید پڑھیں

  • حکومتی ساکھ کا جنازہ

    اسلام آباد میں 22روز تک ختم نبوت میں ترمیم کے مسئلہ پر تحریک لبیک کے دھرنے کے نتیجے میں حکومت اور علامہ رضوی کے درمیان ایک تحریری معاہدہ کے بعد دھرنا ختم ہوگیا ہے ۔ لیکن اس تحریری معاہدہ کے بعد اس کی حمایت اور مخالفت میں ایک نئی بحث مختلف سیاسی ، قانونی ، حکومتی حلقوں میں شروع ہو� [..]مزید پڑھیں

  • دھرنے کے مضمرات سنگین ہو سکتے ہیں

    آخرکار 22 دن کے دھرنے،6 معصوم شہریوں کی ہلاکت، عدالت کی لعن طعن، کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری اور لاکھوں شہریوں کے سفری مشکلات سے دوچار ہونے کے بعد وہی ہوا جو دھرنے کے پہلے دن کیا جاسکتا تھا، بلکہ دھرنا شروع ہونے سے قبل ہی کردیا جاتا تو شاید دھرنا ہی نہ ہوتا۔ لیکن حکومت شاید اپنی � [..]مزید پڑھیں

  • دھرنے کے بعد حکومت کے لئے نئے بحران کا آغاز

    6نومبر کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد کے مقام کو ختم نبوت ﷺ کو موضوع بناکر موجودہ حکومت کیلئے ایک آزمائش کا انتظام کیا گیا ۔ یہ 2014 کے بعد دھرنا آزمائش کی ایک اور لہر تھی ۔  پاناما کے بعد اس نئے  امتحان میں سب ہی کردار پرانے ہیں۔ 22دن بعد اس دھرنے کا اختتا� [..]مزید پڑھیں