تبصرے تجزئیے

  • کتاب میلہ اور خوش نصیبی
    • تحریر
    • 02/02/2018 4:55 PM
    • 3869

    زندگی کے معمولات میں سے اپنی اپنی پسند ڈھونڈنا اور اس سے حظ اٹھانے کا ملکہ بھی ایک طرح کی خوش نصیبی ہے۔ یوں تو محبوب کا ہرجائی ہو جانا کسی بھی چاہنے والے کے لئے قیامت سے کم نہیں لیکن پروین شاکر نے اس میں بھی ایک خوبی ڈھونڈ نکالی: وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا بس یہی بات اچھ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پنجاب اور خیبر پختون خوا پولیس کا مقدمہ

    محترم عمران خان صاحب کی یہ بات پڑھ کر دل بہت دکھی ہے کہ انہیں شک ہے کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی پارٹی میں ٹکٹوں کی تقسیم میں کرپشن ہوئی تھی۔ ان کی اس سادگی پر بس مرجانے کو ہی دل کرتا ہے۔ کہ پانچ سال گزر جانے کے بعد بھی ان کو شک ہے۔ اور شک کا علاج تو حکیم لقمان کے اس بھی نہیں تھا۔ جو � [..]مزید پڑھیں

  • ہائر ایجوکیشن میں سیاسی مداخلت

    پاکستان کا حقیقی المیہ اداروں کی خود مختاری اور آزادانہ بنیادوں پر ان کو کام نہ کرنے دینا ہے ۔ سیاسی مداخلت نے عملی طور پر قومی اداروں کی بربادی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ یہاں اداروں، قانون ، شفافیت اور جوابدہی کے مقابلے میں افراداور اقراپروری کی حکمرانی ہے ۔ [..]مزید پڑھیں

  • آزادی صحافت تا زرد صحافت

    ڈاکٹر شاہد مسعود نے قصور میں زینب سے زیادتی اور قتل کے ملزم عمران علی کے فارن کرنسی اکاؤنٹس اور انٹرنیشنل پورنو مافیا کے ساتھ لنک کی جو ہوش ربا کہانی اپنے ٹی وی پروگرام ناظرین کو سنائی تھی۔ اس کا ثبوت کہیں سے بھی فی الحال میسر نہیں آیا اور ان کی سنائی جانے والی رام لیلا نے الٹا پ [..]مزید پڑھیں

  • سماج کی تطہیر کے لئے ظلم ختم کرنا ہوگا

    انسان کی زندگی جہاں خوشیوں سے معمور ہے وہاں وہ دکھوں اور غموں سے بھی بھری ہوئی ہے۔ بعض دکھ اور تکالیف قدرتی ہوتے ہیں لیکن بعض اپنے ہی شامتِ اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ کچھ اس قسم کے دکھ میرے وطنِ عزیز کے لوگ بھی برداشت کر رہے ہیں۔ وطن عزیز میں لوگ جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ غیرمعمول� [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان میں صحافتی دائرہ کار اور لاف زنی

    پاکستان میں صحافت اور جمہوریت کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت چند ایک اخبارات رسائل اور الیکٹرانک میڈیا کا واحد ذرائع ریڈیو ہوتا تھا۔ اس کا زیادہ تر استعمال حکومتی پراپیگنڈا کیلئے ہوتا تھا۔ سامعین ملکی ریڈیو کی خبروں پر بہت کم اعتبار کرتے تھے اور با وثوق خبرو� [..]مزید پڑھیں