تبصرے تجزئیے

  • ’’تایا کندھ پاڑ‘‘

    جنرل ضیاالحق کا مارشل لاء پاکستان پیپلزپارٹی اور بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے لیے خصوصی طور پر سخت گیر دورِحکومت تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں کالعدم کی گئیں، مگر کسی بھی شخص کا اگر تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ثابت ہوجاتا، بس اس کی خیر نہیں۔ معروف سیاسی قہوہ خانوں بشمول پاک ٹی ہاؤ [..]مزید پڑھیں

  • میڈم نور جہاں، ستو کنجری اور باوا مست شاہ

    پچھلے دنوں ایک معروف آن لائن اردو ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع ہوا۔ میڈم نور جہاں یا فتور جہاں۔ یہ کسی مذہبی انتہا پسند مولوی کے قلم کا فتور تھا جس نے اپنی کم علمی و کم فہمی و تعصب کا کھل کر اظہار کیا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ کسی کے فن اور ذاتی زندگی میں بہت فرق ہوتا ہے۔ یہ دو ال [..]مزید پڑھیں

  • صد افسوس! غیرت بھی لبرل ہو گئی

    2018 کا پہلا دن ہے۔ نئے سال کی مبارک باد کے لین دین سے اب تک شاید آپ بھی اکتا چکے ہوں۔ مجھے نئے سال کی مبارک باد دینے سے معذور سمجھا جائے۔ مجھے تو یہ برس غالب خستہ حال کے دروازے پہ لگی پاڑ جیسا وحشت ناک معلوم ہوتا ہے۔ ہوا کے دباؤ میں کمی بیشی، مقامی موسمی حالات اور عالمی صورت حال کے � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • 10سال بیت گئے، بے نظیر کے قاتل نہ مل سکے

    27دسمبر 2017 کو بےنظیربھٹوشہید کی دس ویں برسی منائی گئی۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں دعائیہ تقریبات اور قرآن خوانی کی گئی۔ مرکزی تقر یب گڑھی خدابخش میں ہوئی ۔ اس تقریب میں سابق صدرمملکت ، شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری اپنی تقریر میں پاکستانی قوم کو امید دلائی کہ بلاول اور � [..]مزید پڑھیں

  • قائداعظم اور اسلامی جمہوریت

    بانئِ پاکستان ، قائداعظم ،محمد علی جناح کے سیاسی اور تہذیبی معیار و اقدار کی بحث میں لادینیت (سیکولرزم) کاسوال اُٹھانا بدمذاقی ہے۔ خود قائداعظم سے جب پہلی بار، 4جولائی 1947 کی ایک پریس کانفرنس میں، یہ سوال کیا گیا تھا تو اُنہوں نے اسے ایک بیہودہ سوال قرار دیا تھا۔ جب ایک اخبار [..]مزید پڑھیں