تبصرے تجزئیے

  • وقت کی قدر کامیابی کا زینہ ہے

    2017 ختم ہونے کو ہے اور 2018 کی آمد ہے۔ مگر 2017 کہاں غائب ہو گیا۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے کہ 2017 کا آغاز ہوا۔ اسی طرح کئی سال بلکہ انسان کی ساری زندگی گزر جاتی ہے۔ وقت ایک بہتا دریا ہے جو چاہے اس سے فائدہ اٹھا لے ورنہ یہ آگے گزر جائے گا۔ واپسی کا تو کوئی سوال ہی نہیں، یہ ایک لمحہ کے لئے ٹھہ� [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی گلے شکوے یا قوم سے مذاق

    یوم پید ائش قائداعظم محمد علی جناح ، سالگر ہ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمدنواز شریف ، مسیحی برادری کا کرسمس کے حوالے سے پاکستان میں 25دسمبر کے دن کو بہت اہمت حاصل ہے۔ اس موقع پر پاکستان بھر میں خصوصی تقریبات ، سیمینار سمیت جلسے ، جلوسوں کا خاص اہتمام کیاگیا جس میں وطن عزیز سمیت مح� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • آؤ رحمتیں سمیٹنے مدینے چلیں

    جمعہ کی نمازمسجدالحرام میں پڑھنے کے بعد واپس ہوٹل آیا۔ دراصل ہماری ٹور کمپنی نے ہمیں دو بجے تیار رہنے کو کہا تھا کیونکہ ہماری گاڑی آنے والی تھی۔ ہوٹل پہنچ کر ہم نے سامان وغیرہ نیچے لا کر چیک آؤٹ کروا کرہوٹل کے باہر خوبصورت لان میں دیگر عازمین کے ساتھ اپنی گاڑی کا انتظار کرنے لگ� [..]مزید پڑھیں

  • کیا امریکہ پر عالمی غربت کا الزام غلط ہے!

    سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ فیس بک کے بانی سمیت 17امریکی ارب پتی شہریوں نے اپنی دولت کا بڑا حصہ خیراتی اداروں کو عطیہ کرنے کا اعلان کردیا ہے، دو امیر ترین امریکی شہریوں سمیت 57امیر ترین امریکی شہری اور خاندان اس مہم کے تحت اپنی دولت کا بڑا حصہ عطیہ کرنے کا پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں۔ علاو [..]مزید پڑھیں

  • بیروت، بحیرۂ روم کنارے

    بحیرۂ روم کے بالکل سامنے آسٹریلیا سٹریٹ میں میری شریک حیات ریما عبداللہ گوئندی کی والدہ پروفیسر ڈاکٹر ھدہ عدرہ کا گھر۔ صبح اٹھتے ہی جب میں سمندر کے وسیع پانیوں پر نظر ڈالتا تو میرے دماغ میں بحیرۂ روم کنارے آباد اس شہر بیروت کے اس حسین ترین مقام پر موجود ہوتے ہوئے اس خطے کی ہزار� [..]مزید پڑھیں

  • فوج کو ایک موقع دینا چاہئے

    پاکستان میں جمہوری عمل کی مضبوطی میں جو رکاوٹیں ہیں ان میں داخلی اور خارجی دونوں طرز کے مسائل ہیں ۔  المیہ یہ ہے کہ یہاں پر سیاسی جماعتیں اور اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ جمہوری عمل کی ناکامی کو اسٹیبلیشمنٹ سیاست اور مداخلت کے ساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے ۔  اس کے برعکس دوسرا طبقہ سیا� [..]مزید پڑھیں

  • کیا شرمیلا بوس نے فوجیوں کو بے قصور قرار دیا

    کلکتہ کی شرمیلا بوس ہندوستان کی تحریک آزادی کے رہنما سبھاش چندر بوس کی پوتی ہیں۔ ان کی کتاب Dead Reckoning-Memories of 1971 Bangladesh War (ہلاکت شماری: 1971 کی بنگلا دیش جنگ کی یادیں) مشرقی اور مغربی پاکستان کی علیحدگی کے ان واقعات کی تحقیق پر مبنی ہے جس میں پاکستانی فوج کو جنگی جرائم اور بنگالی خوات� [..]مزید پڑھیں