تبصرے تجزئیے

  • کراچی میں سیاسی مفاہمتی عمل خوش آئیند ہے

    پاکستان کے معاشی مفادات بہت حد تک کراچی کے حالات پر انحصار کرتے ہیں۔ یوں تو پورا ملک ہی دہشت گردی کی زد میں رہا ہے مگر جو کچھ کراچی میں ہوا وہ پاکستان کی تاریخ  کاسیاہ ترین باب تھا۔ اس تاریک دور کی مرہونِ منت پاکستان مسلسل معاشی بدحالی کا شکار ہوتا چلا گیا اور کراچی جیسا روشنی [..]مزید پڑھیں

  • اقبال اور معاشی انصاف کی تلاش

    اقبال کی طویل نظم ’’لینن خُدا کے حضور میں‘‘ بڑی حد تک اقبال کی ممنوعہ شاعری میں شمار ہوتی ہے۔ یہ نظم قارئین ادب میں جتنی مقبول ہے نقادانِ ادب میں اتنی ہی غیر مقبول ہے۔ اس وقت تک اقبال کی طویل نظموں کی تفہیم و تحسین پر مشتمل دو قابلِ قدر کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ایک بھار [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سیاسی جماعتوں میں آمریت بھی ختم کریں

    ملک میں جمہوریت کمزور ہے۔ اس کے مستقبل کے بارے میں خدشات موجود ہیں۔ حلقہ بندیوں کے حوالہ سے آئین سازی تعطل کا شکار ہے۔ سینیٹ انتخابات پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی جمہوریت کے تسلسل پر اتفاق رائے ہے۔ مجھے تو حیرانی ہے کہ وہ ادارے جن پر جمہوریت کو کمزور کرنے � [..]مزید پڑھیں

  • کیا علامہ اقبال قلندر ہیں

    چند روز پہلے کی بات ہے کہ میرے موبائل پر ایک فون آتا ہے کہ لاہور سے شفقت پرویز بھٹی نے اپنی کتاب ’’اقبال قلندر ۔ اقبال کی نظر میں‘‘ بھجوائی ہے۔ فون کرنے والا یہ بھی کہتا ہے کہ بابا جی نے حکم دیا تھا یہ کتاب آپ کے ہاتھ میں دینی ہے اور ہم اس وقت روزنامہ ایکسپریس ملتان کے د [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان میں جمہوریت کو کیا خطرہ ہے

    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اس لحاظ سے پوری دنیا میں انفرادیت رکھتا ہے کہ یہاں لمحوں میں متنازعہ معاملات کو ٹھنڈا کردیا جاتا ہے اور لمحوں میں ہی غیر ضروری بحث کو قومی سطح کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ مملکت خدادا میں حکومتیں، عہدے، وزارتیں، اس بنیاد پہ نہیں ملتیں کہ پاکستان کی [..]مزید پڑھیں

  • یورپ تاریک براعظم سے روشنی کا مینار کیسے بنا

    چند ماہ پہلے بی بی سی نے ایک خصوصی رپورٹ نشر کی جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانیوں میں گزشتہ 20 سالوں میں ملائیت اور بنیاد پرستی کی جس انداز میں تبلیغ کی گئی ہے وہ اب اپنا رنگ دکھا رہی ہے۔ اب اندرون و بیرون ملک پاکستانی باشندوں کی زندگی کے ہرحصے میں جو رجحانات جاری و ساری ہیں وہ کس [..]مزید پڑھیں

  • آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی میں طبقاتی تقسیم

    آکسفورڈ اور کیمبرج دو ایسی یونیورسیٹیاں ہیں جن کا نام ذہن میں آتے ہی انسان یہی سوچتا ہے کہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طلباء ایک اعلیٰ اور ذہین لیاقت کے مالک ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں ہے کیونکہ برسوں سے ان قدیم یونیورسیٹیوں سے تعلیم حاصل کرنے والے ہونہار طالب علموں نے � [..]مزید پڑھیں