تبصرے تجزئیے

  • دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے!

    دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے۔ اُن دنوں میں کالج میں ہوتا تھا جب نکاح فلم دیکھنے کے لیے لوگ سنیما گھروں میں ٹوٹ پڑے تھے۔ تاہم نکاح فلم کے گانے سب کی زباں پر تھے جس میں، دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے مجھے کافی پسند تھا اور میں بھی گاہے بگاہے گاتا اور سنتا رہتا تھا۔ دل کے ارماں آ [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی قربانی یا آمریت مسلط کرنے کی سازش؟

    27 ویں ترمیم کے تقاضے پورے کرنے کے لیے آج حکومت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے آرمی، ایئرفورس، نیوی  ایکٹس اور پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل منظور کرالیے۔ آرمی ایکٹ میں ترمیم سے فیلڈ مارشل عاصم منیر  کی  چیف آف ڈیفنس فورسز کےنئے عہدے پر تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے دن س� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عدلیہ کو غیر جانب دار اَور خودمختار بنائیے

    سینیٹ سے ستائیسویں آئینی ترمیم منظور ہوئی، تو بات بہت دور نکل گئی۔ قانون میں زبردست مہارت رکھنے والے جناب مخدوم علی خان نے اِن ترامیم کو سپریم کورٹ کا ’تعزیت نامہ‘ قرار دِیا ہے جس سے سنجیدہ حلقوں کے سر شرم سے جھک گئے ہیں۔ ممکن ہے ہماری مقننہ اپنے مسودے پر نظرثانی کی ضر� [..]مزید پڑھیں

  • محفوظ پان والا چوک، جھارا پہلوان اور آلو کی ٹکیاں

    ملتان کینٹ کے محفوظ پان والے چوک کی یادوں پر ایک کالم کیا لکھا، ہر شخص اُس کا تذکرہ لے بیٹھا۔لاہور کا چوک لکشمی بھی اپنی ایک شان اور پہچان رکھتا ہے مگر یہ کینٹ کا محفوظ پان والا چوک تو گویا ایک دبستان تاریخ ہے، جس میں اَن گنت اور حیران کن واقعات کی ایک لمبی کہانی موجود ہے۔ ایک ب [..]مزید پڑھیں

  • آئینی عدالت اور عدلیہ کی آزادی

    آئینی عدالت بن گئی ہے۔ اس حوالے سے دو موقف سامنے آرہے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ آئینی عدالت کا قیام آزادی عدلیہ پر حملہ ہے۔ حکومت نے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے آئینی عدالت قائم کی ہے۔ اعلیٰ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے لیے آئینی عدالت قائم کی گئی ہے۔ آئینی عدالت کا قیام حکومت ک� [..]مزید پڑھیں

  • من و سلوی سے خیر کے سفر تک

    ترقی یافتہ ممالک میں فلاحی سرگرمیوں کے فروغ میں مخیر حضرات، صنعت کار اور سماجی شخصیات اور تنظیموں کی دلچسپی کے ساتھ ساتھ کمیونٹی خدمات کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ہم ہر کام سپرد حکومت کر کے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو جاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ملتان کے کمشنر عامر کریم خان بھی ملتان [..]مزید پڑھیں

  • ججوں کے استعفے اور عدلیہ کی آزادی

    سپریم کورٹ کے دو ججوں سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ  اور  جسٹس اطہر من اللہ  نے 27 ویں آئینی ترمیم منظور ہونے  کے بعد  اپنے عہدوں سے استعفے دے دیے ہیں۔ متعدد حلقوں کی جانب سے اسے عدالتی و آئینی تاریخ میں تاریک باب سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ   [..]مزید پڑھیں

  • کیا آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے؟

    سابق چیف جسٹس جناب جواد ایس خواجہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آئین کے مطابق کسی آئینی ترمیم کو کسی عدالت میں چیلنج کیا بھی جا سکتا ہے؟ آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی دفعہ پانچ میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کو کسی بھی بنیاد [..]مزید پڑھیں

  • جٹ جانے تے بجو جانے

    سیاست پر کالم لکھنا اور بات ہے تاہم میں بول چال میں عموماً سیاسی گفتگو سے پرہیز کرتا ہوں کہ میں نے اپنی ساری زندگی میں کسی کو سیاسی اور مسلکی گفتگو کے نتیجے میں اپنے خیالات اور نظریات سے رجوع کرتے نہیں دیکھا۔ اب تو معاملہ اور بھی خراب ہو گیا ہے۔ پہلے یہ گفتگو محض لاحاصل تھی تا� [..]مزید پڑھیں