تبصرے تجزئیے

  • تا حیات حسیِن و جمیِل

    ہماری اپنی لائبریری تھی، ابو جی کی اپنی، انہیں ہماری "داستانِ امیر حمزہ" اور "عمران سیریز" میں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ اور ہمیں ان کے "مکتوباتِ سرہندی" اور "حجتہ اللہ الباغہ" سے کو ئی سروکار نہ تھا۔ یہ قاعدہ اس وقت ٹوٹا جب ہم نویں دسویں جماعت میں پہنچے اور ہمی� [..]مزید پڑھیں

  • آئینی ترمیم: سپر ہائی برڈ بندوبست

    کیا ملک میں سیاسی تضادات ناقابل مصالحت مرحلہ تک  آپہنچے ہیں یا اشرافیہ کے درمیان مفادات کا ٹکراؤ سیاسی قوتوں اور مقتدرہ کے درمیان مفاہمت کے راستے میں حائل ہو رہا ہے۔ ناقابل حل سیاسی تضادات اپنی انتہائی شکل میں ، متحارب  طبقوں اور گروہوں میں کھلے تصادم،   خانہ جنگی، [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ضمانت تو ہمیں بھی درکار ہے

    ایک ضمانت نہیں، کئی ہوں تو بات بنے۔ عمر کا کافی عرصہ بیت چکا ہے لیکن اس دنیا سے رخصت ہونے کا جی نہیں کرتا۔ عمرِ خضر کی ضمانت نہ بھی ہو کہیں سے کچھ یقین تو آئے کہ اتنے سال اور جئیں گے۔  ویسے بھی عمر بیکار کی گزری ہے، راہ پر آنے کے لیے ایک اور عمر تو درکار ہو گی۔ وہی بات کہ آ ہی [..]مزید پڑھیں

  • ایک گناہ گار بندے کا عمرہ

    ”چلتے ہو تو چین کو چلیے“ میں ابنِ انشا لکھتے ہیں کہ ”ہم نے بہت کوشش کی کہ ہمارے چین جانے کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو لیکن تدبیر کُند بندہ، تقدیر زَند خندہ۔ یہ بات نہیں کہ ہم چھپ چھپا کر بھیس بدل کر چین جا رہے تھے، یا مغربی دنیا سے اِس امر کو چھپانا مقصود تھا بلکہ محض دوست [..]مزید پڑھیں

  • تھکے ہوئے شانوں سے بوجھ اتر گیا

    ایک ہی دن میں اتنے بہت سے ستارے بجھ گئے۔ سہ پہر میں محترمہ سیدہ عارفہ زہرا کے انتقال کی خبر آئی۔ رات گئے معلوم ہوا کہ استاذی عرفان صدیقی بھی رخصت ہو گئے۔ کوئٹہ سے برادرم عابد میر نے اطلاع دی ہے کہ میرے مہربان بزرگ اور سیاسی استاد سرور آغا بھی دس نومبر ہی کو داغ مفارقت دے گئے۔ &nbs [..]مزید پڑھیں

  • تبدیل ہوتا سیکیورٹی ڈومین آئینی ترمیم کی وجہ؟

    27ویں آئینی ترمیم پر اپوزیشن کوئی ’خاص ات‘ چکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سے یہ وہم کرنا بنتا نہیں ہے کہ اپوزیشن کی سیاپا اور احتجاج کرنے کی صلاحیت میں کمی آ گئی ہے۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب جے یو آئی اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اپوزیشن میں داد شجاعت دینے کو تیار بیٹھے ہوں۔ اک ٹوک� [..]مزید پڑھیں

  • سپریم کورٹ کو سیاسی پارٹی نہ بنایا جائے!

    سپریم کورٹ کے دو معزز ججوں نے پارلیمنٹ  میں 27 ویں آئینی ترمیم کے تناظر  میں شروع ہونے والے مباحث میں براہ راست حصہ لینے کے لیے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھے ہیں۔ یہ خطوط سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیے ہیں جن میں نئی ترمیم کو عدلیہ کی آزادی&nb [..]مزید پڑھیں

  • نئی پرانی کہانی

    آپ کو لگے گا کہ بات پرانی ہے۔ مگر دراصل بات اتنی پرانی بھی نہیں ہے جتنی کہ لگتی ہے۔ یہ کوئی موہنجودڑو کے دور کی کہانی نہیں ہے۔ یہ آپ کے اور میرے دور کی کہانی ہے۔ ہوتا کچھ اس طرح ہے کہ جب کوئی کہانی نسل در نسل مروج ہونے لگتی ہے، تب ایسی کہانی پرانی محسوس ہونے لگتی ہے۔ اور پ� [..]مزید پڑھیں