تبصرے تجزئیے

  • اقتدار کا کرم اور ستم
    • تحریر
    • 04/06/2016 3:55 PM
    • 5455

    اقتدار اپنی جگہ قائم رہتا ہے تاہم اس پر براجمان شخصیات تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اسی لئے انگلینڈ کا یہ نعرہ مشہور ہوا کہ ’ بادشاہ مر گیا، بادشاہ زندہ باد‘۔ ہمارے معاشرے کے  دانا  لوگ ہر نئے آنے والے حکمران کے اسی طرح کے تابعدار اور وفادار بن جاتے ہیں جس طرح وہ اس سے پہلے [..]مزید پڑھیں

  • بھٹو کے حوالے سے چند حقائق

    ذوالفقار علی بھٹو نے 21دسمبر 1971ء کو اس وقت پاکستان کا اقتدار سنبھالا جب پاکستان کا مشرقی حصہ (مشرقی پاکستان) علیحدہ ہوچکا تھا، اقتدار فوجی آمریت کے تحت جنرل یحییٰ کے پاس تھا، پاکستان ایک آئینی ریاست تھی اور پاکستان کا نظام مارشل لاء تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی ذات سے نفرت کرنے وا [..]مزید پڑھیں

  • اعلیٰ اقدار، سماجی سائنس کا حصہ ہیں

    پست،گھٹیا اور جاہل قسم کے لوگ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ کہنے والے نے ان کی موافقت میں بات کہی ہے یا ان کی مخالفت میں۔ جبکہ وہ موافق کو دوست گردانتے اور نوازتے ہیں اور مخالفت کے دشمن بن جاتے ہیں مگر بلند حوصلہ اور عالی ظرف لوگ موافقت اور مخالفت کی پروا کئے بغیر اپنا مدعا ظاہر کر دیتے ہ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بولان سے جمنا تک (4)
    • تحریر
    • 04/04/2016 2:16 PM
    • 5195

    اگلے روز جوکہ بھوپال میں ہمارا آخری دن تھا۔ دوپہر کے قریب ہم کمرے میں بیٹھے تھے کہ دو عدد پشتون بھائی شلوار قمیص پہنے، کندھے پر رومال ڈالے آپہنچے۔ پشتو میں سلام دعا کے بعد ہم ان کے ہمراہ کھلی جیپ میں بیٹھ کر پرانے بھوپال میں موتی مسجد کے پیچھے واقع مدرسے کی جانب روانہ ہو گئے جہا� [..]مزید پڑھیں

  • دیش بھگت و دیش دروہی کی بحث

    فی الوقت ہندوستان میں بڑے زور و شور سے نیشنلزم کی بحث جاری ہے۔ جو خاصی دلچسپ بنتی جا رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ جس کو دیش سے محبت ہے وہ "بھارت ماتا کی جئے"کا نعرہ لگائے گا اور جس کو دیش سے محبت نہیں وہ یہ نعرہ نہیں لگائے گا۔ باالفاظ دیگر جو دیش بھگت ہے اور نعرہ بھی لگاتا ہے تو مخ� [..]مزید پڑھیں

  • یاالٰہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو

    ٹی ایس ایلیٹ نے لکھا کہ ”اپریل ظالم ترین مہینہ ہے“۔ فیض صاحب نے بھی کہا تھا، ”پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں“۔ اس ظالم مہینے میں بھی ایک تاریخ خاص طور سے ظالم ہے۔ اپریل کی چار تاریخ کو کھلنے والے پھولوں میں لہو کا رنگ اور ظلم کی بو کیوں ہوتی ہے؟ اپریل کی چار تاریخ اور 1968 [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی وفاداریاں اور نظریات
    • تحریر
    • 04/03/2016 1:26 PM
    • 7092

    گزشتہ روز سوشل میڈیا ’فیس بک‘ پر ایک اپ ڈیٹ دیکھی جس میں لکھا گیا تھا کہ ’’یہ جو لوگ روزانہ ایک جماعت سے دوسری جماعت میں جاتے ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟‘‘۔ اس پر کئی افراد نے کمنٹ بھی کئے۔ایک نے کہا ’’لوٹا‘‘ ، دوسرے نے کہا ’’ سیاسی مسافر‘‘۔ ایک [..]مزید پڑھیں

  • اظہار بھی مشکل ہے

    عجب ستم ظریفی ہے کہ جس طرح کے تماشے پاکستان میں ہو رہے ہیں اس پر نہ رو سکتے ہیں نہ ہنس سکتے ہیں۔ بم دھماکوں او خون آلودہ مناظر اور آہ و بکا نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ موت کا وحشیانہ رقص اب تفریحی پارکوں میں بھی ہونے لگا ہے ۔ پچھلے دنوں اسلام آبا د کا ڈی چوک پوری دنیا کی نگاہوں ک [..]مزید پڑھیں

  • ماسکو میں گلشنِ اقبال کے شہیدوں کے چراغ

    گلشنِ اقبال ، مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ کا باغ، علامہ اقبال ٹاؤن، اقبال لاہوری، 27مارچ کو اقبال اور جناح کے بچوں کی لاشوں سے پٹ گیا۔ ایک درندے نے ’’جنت کی نام نہاد کنجی‘‘ کے حصول کے لئے اپنے ہم مذہبوں اور اپنے ہی ہم وطنوں کو بے رحمانہ انداز میں موت کے گھاٹ اتار دی [..]مزید پڑھیں

  • تو میں نے دیکھا !

    میں نے دیکھا کہ وہ ایک ماں تھی۔ زخموں سے چور۔خاک و خون میں غلطاں۔ جان کنی کی حالت میں زمین پر چت پڑی تھی۔ اسکی تیزی سے پتھراتی آنکھوں میں صرف ایک حسرت باقی تھی۔ بس ایک حسرت۔ اپنے پہلو میں چیتھڑہ ہوئے بچے پر آخری نظر ڈالنے کی حسرت۔ کہیں وہ تکلیف میں تو نہیں۔ کہیں اسے درد تو نہیں [..]مزید پڑھیں