تبصرے تجزئیے

  • جنگ کا بیوپار اور بنیے کا تار

    منٹو اپنے ہی رنگ کا لکھنے والا تھا۔ امرتسر کے شرارتی لڑکے کی ابھی مسیں نہیں بھیگی تھیں کہ 1919  کا جلیانوالہ باغ ہو گیا۔ پنجاب میں مارشل لا لگ گیا۔ امرتسر کی سرکش گلیوں میںآزادی کی ہوائیں چلنے لگی تھیں۔ ریٹائرڈ مگر دل پھینک سب جج غلام حسین کے سات سالہ لڑکے نے اردو زبان کے پر� [..]مزید پڑھیں

  • عید قربان کے رنگ

    پاکستانی قوم کی ہمت ہے کہ مہنگائی بدامنی اور نفسا نفسی کے دور میں بھی عید کا تہوار بھی جیسے تیسے منا ہی لیتی ہے کہ بیچارے عوام کے لیے تو اب خوشی کے مواقع کم ہی میسر آ تے ہیں ورنہ تو بقول منیر نیازی: اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا الب� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • قبضہ گیروں کا عوام دشمن بجٹ

    قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا گیا ہے جس کا حجم 17ہزار 573ارب روپے ہے۔ جس پر حکومتی ارکان نے ڈیسک بجائے جبکہ اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کی حد تک احتجاج کیا۔ ہمارے بلند پرواز  نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آگیا ہے۔ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہ� [..]مزید پڑھیں

  • ’عبدالرحمان پیشاوری‘ عجب چیز ہے لذتِ آشنائی

    میں  اپنے ایک کالم میں عبدالرحمان پیشاوری کا ذکر کر چکا ہوں جس نے چھبیس سال کی عمر میں، علی گڑھ کالج کو الوداع کہا اور ترکوں کے شانہ بہ شانہ ’جنگِ بلقان‘  لڑنے ایک صدی پہلے کے قسطنطنیہ جا پہنچا۔ برادرِ عزیز محترم ’خلیل طوقار‘ کو میں پاکستان میں ترکی کا غیررسمی [..]مزید پڑھیں

  • گم نام سالگرہ، دانشور اور بیانیہ

    مجید امجد نے کتنا ٹھیک لکھا تھا: میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے میں جب ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا اداس شاعر کا یہ شعر اس روز بہت یاد آیا جب میں ایک گم نام سالگرہ میں شریک ہوا۔ لاہور کا سرسبز باغ جناح اس روز بھی گھنے درختوں اور اپنی تازگی کی شان دکھا رہا تھا۔ باغ [..]مزید پڑھیں

  • سزا سے پہلے سولی: میڈیا ٹرائل اور انصاف کا قتل

    جیوتی مہرا کی پرانی ویڈیوز کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا جا رہا ہے، ان کی ذاتی ڈائری کے اقتباسات  کو سوشل میڈیا پر اچھالا جا رہا ہے اور ان کی ذاتی زندگی پر یوں تبصرے کیے جا رہے ہیں گویا عدالت نے مجرم قرار دے دیا ہو۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی سفارتکار دانش سے � [..]مزید پڑھیں

  • دفعہ 302 کا خوف کیوں ختم ہو گیا؟

    ایک زمانے میں یہ بات عام تھی کہ دفعہ 302کسی درخت پر بھی لگ جائے تو وہ سوکھ جاتا ہے۔ یہ بات درحقیقت اس بات کا اشارہ تھی کہ کسی کا قتل کرنے والا خود اپنی زندگی میں زندہ لاش بن جاتا ہے۔ اس دفعہ کا اتناخوف ہوتا تھا کسی کی جان لینے کے بارے میں سوچنا بھی کپکپی طاری کر دیتا تھا۔ میں پچھل� [..]مزید پڑھیں

  • ایک ضروری اطلاع بذریعہ کالم ہٰذا

    گزشتہ چند ماہ سے پھلوں کی ایسی بہار لگی ہوئی ہے کہ دیکھ کر ہی دل شاد ہو رہا ہے۔ میں پہلے بھی پھلوں کا بہت زیادہ شوقین نہیں تھا اور گزشتہ 13برس سے پھلوں کے معاملے میں ہاتھ مزید کھینچ لیا ہے۔ کبھی کسی پھل کو دیکھ کر کھانے کو دل چاہے بھی تو یہ عاجز اس اشتہا پر قابو پانے کی کوشش کرتا م [..]مزید پڑھیں