تبصرے تجزئیے

  • غیر محفوظ موبائل ڈیٹا کی قباحتیں

    امریکہ میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس لوٹ آنے کے بعد دنیا کسی بھی صورت ویسی نہیں رہے گی جس کے ہم کئی دہائیوں سے عادی ہوچکے ہیں۔ ’’نئی دنیا‘‘ کاآغاز کئی دانشوروں کی نگاہ میں کمیونزم کے خاتمے کے بعد ہوا تھا۔ سرد جنگ ختم ہوئی تو دنیا نظر بظاہر سکڑ کر ’’عالمی گاؤں‘&lsquo [..]مزید پڑھیں

  • پاکستانی بیوروکریسی کا ایلون مسک کون ہو گا؟

    امریکہ میں تو ایلون مسک آری لے کر بیورو کریسی کی خبر گیری کرنے میدان میں آ گئے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کی نو آبادیاتی افسر شاہی کے لیے کوئی ایلون مسک کب آئے گا؟ ذرا تصور کیجیے پاکستان کی افسر شاہی سے کسی نے یہ سوال پوچھ لیا کہ آپ کی افادیت کیا ہے کہ آپ کو اس عہدے پر برقرار رکھ کر آ [..]مزید پڑھیں

  • میری کہانی (36)

    اوسلو شہر کے مرکز میں بادشاہ کا دفتر تھا۔ باہر سے بھی عام سا لگتا تھا اور جب میں سیڑھیاں چڑھ کر بادشاہ سلامت سے ملاقات کیلئے گیا، میرے لئے دروازہ کھولا گیا توسامنے بادشاہ اپنے دفتر کے درمیان میں میرے استقبال کیلئے کھڑے تھے۔ آفس میں صرف ایک میز تھا اور دو کرسیاں ایک کرسی پر ب� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فراڈ کے منبع ’ڈبہ کال سنٹر‘

    جرائم کی خبروں کا تعاقب کرنا جوانی میں میرا جنون تھا۔ اس کی بدولت کئی ایوارڈ بھی ملے اور اس سے زیادہ اہم کئی بے کسوں کی دعائیں بھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مگر میں سیاسی کے علاوہ خارجہ امور پر بھی لکھنے لگا۔ خارجہ امور میں گھسا تو کوٹ کے ساتھ ٹائی لگاکر فلمی گانے والا ’’صا� [..]مزید پڑھیں

  • لاچاری کا اندازہ

    کیسی حالت اس سنہرے دیس کی بن گئی ہے کہ تمام امیدیں ایک کھیل پر بندھی ہوں اور ہر بار جسے اربابِ فکر ونظر نے ازلی دشمن کا درجہ دیا ہو ،اُس کے ہاتھوں پِٹ کے رہ جائیں۔ ایک بار پٹنا ہو پھر تو کوئی اتنی بڑی بات نہیں لیکن غازیانِ فتح وامید ہر بار میدانِ کرکٹ میں اتریں تو ازلی دشمن سے ایس� [..]مزید پڑھیں

  • محفوظ پنجاب کا خواب اورسیف سٹی اتھارٹی

    پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر محمد احسن یونس نے میرے سامنے 15پر کال ملائی۔ دوسری طرف سے آپریٹر کی آواز سے پہلے مختلف آپشنز کے بارے میں بتایا جانے لگا۔ جب فون کی فراہمی والا آپشن آیا تو محمد احسن یونس نے اسے دبا دیا۔ دوسری طرف سے آپریٹر کی آواز آئی، جی میں کیا خدمت ک [..]مزید پڑھیں

  • اپنے صحافی بھتیجے کی مدح میں

    جہاں تک ہونہار بھتیجوں کا تعلق ہے، اردو ادب کے باثروت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ البتہ مولانا ظفر علی خاں کے بیٹے مولانا اختر علی خان سے شروع ہونے والی ’صحافی صاحبزادہ‘ روایت میں کسی قدر پانی مرتا ہے۔ ’پانی مرنا‘ لکھ کر محض محاورہ نہیں کھپایا، یہ روایت ایسی ثقہ ہے کہ کہی [..]مزید پڑھیں