تبصرے تجزئیے

  • کشمیریوں کا حق خود ارادیت: ایک اور پہلو

    کشمیر یوں کے حق خود ارادیت کا ایک پہلو عمومی طور پر  نظر انداز ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس طویل مدتی قبضے کے باوجود انڈیا کشمیر کے قدرتی وسائل کا مالک نہیں، یہ کشمیریوں کی ملکیت ہیں اور ان کی مرضی کے بغیر ان وسائل کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جب یہ بنیادی نکتہ سمجھ لیا جائے تو ا� [..]مزید پڑھیں

  • دہلی کے دھوکے

    یہ ایک مسلسل دھوکے کی کہانی ہے۔ سرینگر کے ساتھ یہ دھو کہ شہنشاہ اکبر نے شروع کیا تھا۔ اکبر کسی نہ کسی طرح کشمیر کو اپنی سلطنت میں شامل کرنا چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ سرینگر میں اس کے نام کا خطبہ پڑھا جائے۔ لیکن سرینگر کا تخت یوسف شاہ چک کے پاس تھا جس کی حکومت جموں سے لےکر لداخ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تعلیم بغیر تربیت بیکار ہے

    بڑے کام تو ہماری حکومتوں کے بس کی بات نہیں لیکن اب اسے ڈھٹائی کہیں یا اپنے بارے میں کوئی غلط فہمی سمجھ لیں کہ یہ عاجز کبھی کبھی اپنی اوقات سے بڑی باتوں کے بارے میں سوچتا ہے اور پھر لکھ بھی دیتا ہے۔ حالانکہ عالم یہ ہے کہ بڑی باتیں اور بڑے کام تو رہے ایک طرف ادھر تو چھوٹی چھوٹی باتو� [..]مزید پڑھیں

  • 5فروری … یومِ احتساب

    آج کا دن متقاضی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر لکھا جائے۔ اس سے بڑا مسئلہ مگر یہ ہے کہ کیا لکھا جائے؟ ایک سال میں اس مسئلے کے حل کے لیے کون سی ایسی پیش رفت ہوئی ہے کہ اس پر قلم اٹھایا جائے؟ عالمی برادری یا پاکستان کی ریاست نے کیا کوئی نیا حل تجویز کیا ہے جس پر اس سے پہلے بات نہیں ہوئی؟ کیا [..]مزید پڑھیں

  • دم توڑتی روائیتی صحافت

    مجھ جیسے سادہ لوح صحافی پاکستان کے جمہوری بندوبست کے ’’ہائی برڈ‘‘ ہوجانے کے بعد اداس،شرمندہ اور پریشان محسوس کرتے ہیں۔ ہائی برڈ نظام کی بدولت ریاست و حکومت کے اہم ترین فیصلے پارلیمان کے ایوان میں نہیں بند کمروں میں ہوتے ہیں۔  ان فیصلوں کی خبر مصدقہ ذرائع سے مل ب [..]مزید پڑھیں

  • غنوی نے فاطمہ بھٹو کو کیوں گالی دی ؟

    پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ بھٹو کی ادب شناس بیٹی فاطمہ بھٹو نے نئے سال میں The Hour of the Wolf (اصطلاحاتی معانیٰ: سحرسے پہلے کی وحشت ناک گھڑی)نامی ایک یادداشت لکھی ہے جس میں انہوں نے اپنی پالتو بلّی’’ کو کو‘‘ اور خود اپنی زندگی [..]مزید پڑھیں

  • پتنگیں، کتابیں، بسنت اور لاہور

    اب یہ بحث بھی چل نکلی ہے کہ جب لاہور میں تین روزہ بسنت کی تاریخیں سامنے آ چکی تھیں تو لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر انہی تاریخوں میں کیوں رکھا گیا۔ بک فیئر آٹھ فروری کے بعد بھی رکھا جا سکتا تھا۔ کتب  فروشوں کی تو خواہش یہی ہے جس طرح عوام پتنگیں خریدنے کے لئے جوق در جوق اندرون شہر � [..]مزید پڑھیں

  • دہشت گردی اور انسانی حقوق کا سوال

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دہشت گردی کے بعد کوئٹہ کا دورہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ’ معاشرے میں تشدد یا دہشت گردی کے لیے کوئی بھی   عذر دلیل کے طور پرقبول نہیں کیا جاسکتا‘۔  انہوں نے  بھارت کی سرپرستی میں جار ی فتنہ الہندوستان کے مکمل  خات� [..]مزید پڑھیں

  • امریکا و یورپ سے انڈین معاہدے

    ہمارے ملک بالخصوص میڈیا میں انڈیا اور پاکستان کو بالعموم باہم حریف ممالک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جبکہ درویش کی ہمیشہ یہ تمنا ہوتی ہے کہ یہ دونوں برادر ہمسایہ ممالک حریف نہیں، حلیف ہونے چاہئیں اور اسی طرح انہیں پیش کیا جانا چاہیے۔ یہ خواہش محض اس صحافی یا قلمکار کی نہیں ہے۔ [..]مزید پڑھیں