تبصرے تجزئیے

  • میں ایک نیا صوبہ بنانے جارہا ہوں

    ہمارے ہاں عام نوعیت کے سیاستدان نہیں ہوتے۔ وہ سب ذہین ترین ہوتے ہیں، وہ اڑتی ہوئی چڑیاؤں کے پر گن سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں عام تاثر ہے کہ اڑتی ہوئی چڑیا کے پر گننا عقل مند ہونے کی آخری نشانی ہے۔ اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہیں رہتی۔ دانشور بتاتے ہیں کہ ایسے ذہین لوگ کھڑے کھڑے ایٹ� [..]مزید پڑھیں

  • نظام کا بوجھ اور پاکستانی ’اطلس‘

    پاکستان کے ’ہائبرڈ نظام‘ میں وزیر داخلہ محسن نقوی کا شمار طاقتور شخصیات میں ہوتا ہے۔ ایک ایسا نظام جس کی مشترکہ لگام اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کے ہاتھوں میں ہے۔  ایک اہم ترین عہدہ وفاقی وزیر داخلہ یعنی ملک کی داخلی سکیورٹی کے نگہبان کا اور دوسرا عہدہ اہم ترین کھیل ک� [..]مزید پڑھیں

  • ’ریفرنڈم‘ برسر دیوار

    سیاست پر باقاعدگی سے لکھنے والے کئی صحافیوں کی طرح میں بھی کافی عرصہ اس گمان میں مبتلا رہا کہ حکمران اشرافیہ اہم مسائل پر ہماری رائے سے متفق نہ بھی ہو تب بھی اس پر توجہ ضرور دیتی ہے۔ یہ دریافت کرنے میں 20سے زیادہ برس ضائع کردئے کہ حکمران اپنے ذہن میں آئے منصوبوں پر ہر صورت عمل کر [..]مزید پڑھیں

loading...
  • آسٹریلیا میں حیات کی ایک جھلک

    سفر انسان کی زندگی کا ایسا استاد ہے جو خاموش رہ کر بھی بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔ بعض اوقات چند گھنٹوں کا سفر برسوں کے مطالعے پر بھاری ثابت ہوتا ہے کیونکہ کتابیں معلومات دیتی ہیں جبکہ سفر مشاہدہ، تجربہ اور احساس عطا کرتا ہے۔ شاید اسی لیے مجھے جب بھی شہروں کی ہنگامہ خیز زندگی، ٹریف� [..]مزید پڑھیں

  • بیچارے پپنشنرز

    ملازمت کے خاتمے کے بعد پنشن ہر ملازم کا ایک خواب ہوتا ہے لیکن کچھ عرصے سے پینشنرز حضرات کا یہ خواب چکنا چور ہو کے رہ گیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ تو یہ بات بیچارے پینشنرز حضرات ہر صادق نظر آ تی ہے۔ پہلے جب ملازمین اپنی ملازمت سے ریٹائر ہوتے تھے [..]مزید پڑھیں

  • نقوی صاحب ناراضی معاف!

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام ’کولیپس‘ کر چکا ہے، اس نظام کے ساتھ آگے نہیں چلا جا سکتا۔ اور اگر وزیراعظم روزانہ چودہ، اٹھارہ یا بیس گھنٹے بھی کام کریں تو یہ محض ’فائر فائٹنگ‘ ہے۔ اس سے � [..]مزید پڑھیں

  • پارلیمانی نظام کیسے ناکام ہوا؟

    کیا پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے؟ کیا پاکستان کے مسائل کا حل صدارتی نظام کے نفاذ میں ہے؟ یہ سوالات نئے نہیں ہیں۔ پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی نے 1956 کا آئین منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو ایک وفاقی پارلیمانی طرزِ حکومت سے چلایا جانا تھا۔ اڑھائی سال کے بع� [..]مزید پڑھیں

  • خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے

    محسن نقوی نے سسٹم کو ری سیٹ کرنے کی بات کیا کی، ہر طرف طوفان آگیا۔ کچھ کو پارلیمانی نظام خطرے میں نظر آرہا ہے، کچھ کو جمہوریت ڈی ریل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ ان حالات کو ایک ’موقعے‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کچھ کو لگتا ہے خاندانی سیاستیں ڈوب جائیں گی۔ کچھ وراثتی سیاست کے � [..]مزید پڑھیں

  • جمہوری حکومتوں کی برطرفی کی کہانی

    اہم خبروں کی تلاش میں ایوان ہائے اقتدار کی غلام گردشوں میں پھیرے 1985 سے لگانا شروع کردئیے تھے۔ اس برس جنرل ضیانے 8 سالہ مارشل لا کے بعد غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کروادئے تھے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں موصوف کے بنائے منصوبے کے تحت قائم ہوگئیں تو محض تین سال بعد اپنی [..]مزید پڑھیں

  • مدارس اور اُردو

    ’اُردو زبان کی حفاظت چونکہ دین کی حفاظت ہے،  اس زبان کی حفاظت حسبِ استطاعت واجب ہو گئی ہے اور باوجود قدرت کے، اس میں غفلت اور سستی کرنا معصیت بھی ہو گی اور موجبِ مواخذۂ آخرت بھی ہو گی‘ (امداد الفتویٰ، جلد: 4)۔ یہ مولانا اشرف علی تھانوی کا فتویٰ ہے۔ جو برصغیر کی دینی رو� [..]مزید پڑھیں