تبصرے تجزئیے

  • ثریا ملتانیکر کا اعزاز اور حکومتی خوشخبریاں

    برصغیر میں کلاسیکی نیم کلاسیکی اور غزل کی گائیکی میں اپنی منفرد شناخت رکھنے والی ٹریا ملتانیکر ایک لیجنڈ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عہد ثریا ملتانیکر میں موسیقی کے سر تال سے واقفیت رکھنے والے ان کا شمار موسیقی کے اساتذہ میں کرتے ہیں۔ 1986 میں پرائیڈ آ ف پرفارمینس ایوارڈ اور 2008 میں صد� [..]مزید پڑھیں

  • جناب سعید مہدی کی گواہی

    لیجیے جناب۔۔۔ حضرت محمد سعید مہدی نے اپنی یاد داشتوں کو قلم بند کر ڈالا ہے۔”دی آئی وٹنس“ (یعنی چشم دید گواہ) کے زیر عنوان کتاب شائع ہو گئی ہے اور پورے ملک میں ہنگامہ برپا ہے۔ اسلام آباد اور کراچی کے بعد لاہور میں بھی اِس کی تقریب پذیرائی کا انعقاد ہوا۔ اواری ہوٹل کا وسیع � [..]مزید پڑھیں

  • بسنت کی آمد اور مثال کی حکمرانی

    یہ تو اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ پنجاب سرکار کو عین وقت پر سمجھ آ گئی کہ لاہور میں بسنت منانے کے حوالے سے ضروری احتیاط نہ برتی گئی تو بہت گڑ بڑ ہو سکتی ہے۔ جوش میں بسنت کا فیصلہ تو کر لیا لیکن پھر وسوسوں نے آن گھیرا کہ لاہور کی فضاؤں میں پتنگیں ہوں گی اور ان پر 804یا کسی خاص کی تصویر۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ضرورتوں کا سودا

    یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ آخرکار طے پا گیا۔ اٹھارہ برس تک کھنچنے والے طویل مذاکرات اور بار بار کے وقفوں کے بعد یہ پیش رفت بظاہر ایک بڑی معاشی کامیابی ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور یورپی یونین کمیشن کی سربراہ ارسلا نے اسے تجارتی معاہدوں کی ما� [..]مزید پڑھیں

  • دہشتگردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں

    افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد سے دہشتگرد حملوں میں 238 فیصد اور جانی نقصان میں 209 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز اور ساؤتھ ایرا ٹیررازم پورٹل سے لیے گئے ہیں۔ افغان طالبان کی 2021 میں کابل دوبارہ واپسی کے بعد ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کا آپشن [..]مزید پڑھیں

  • تنویر جہاں کی ادارت اور میرا کالم

    دو روز پہلے، شام دبے پاؤں بڑھی آتی تھی۔ سارے میں دھند اور بادلوں نے چھاؤنی چھائی تھی۔ بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکراتیں تو دل مچل مچل اٹھتا کہ برآمدے میں کھڑے ہو کر بارش سے لطف اٹھایا جائے۔ بارش سے اپنی دوستی بہت پرانی ہے۔ میں نے ابھی ٹھیک سے چلنا نہیں سیکھا تھا۔ برسات� [..]مزید پڑھیں

  • بلی کے گلے میں گھنٹی والا معاملہ

    اس ملک کو بنے آٹھ عشرے اور اس عاجز کو اس ملک کی سیاست کو دیکھتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے پانچ عشرے ہونے والے ہیں۔ ملکی سیاست کو پچاس سال دیکھنے کے بعد یہ دعویٰ تو رہا ایک طرف کہ میں اس ملک کی سیاست کو سمجھتا ہوں، اس بارے میں گمان کرنا بھی خام خیالی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ کیوں کہ � [..]مزید پڑھیں

  • ایران پر امریکی حملے کا امکان؟

    کیا امریکہ ایران پر حملہ کرے گا؟ ایک ہی سوال ہے،دنیا جس کا جواب جاننا چاہتی ہے۔ یہ اور بات کہ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔   اس کا سبب صدر ٹرمپ کی ناقابلِ اعتبار شخصیت ہے۔ ان کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ ان کی دوستی کا کوئی بھروسہ نہ ان کی � [..]مزید پڑھیں

  • مصطفیٰ کمال کی سیاست

    مصطفیٰ کمال کی ’’سیاسی بصیرت‘‘ میری نگاہ میں 2018 کے انتخابات کے قریب بے نقاب ہوگئی تھی۔ موصوف ایم کیو ایم کی جنرل مشرف کی سرپرستی میں قائم ہوئی ’’مقامی حکومت‘‘ کی ایک کامیاب اور حتمی مثال کی صورت مشہور کروائے گئے۔ بات یہ پھیلائی گئی کہ اگر وطن عزیز کے ہر [..]مزید پڑھیں

  • اُوپر، نیچے اور درمیان

    کھانا تو ہم سب ایک لاکھ روپیہ یا زیادہ ماہوار کمانے والے تین ٹائم ہی کھاتے ہیں۔ موسم کے سارے پھل بھی کھاتے ہیں۔ ڈرائی فروٹ پر بھی ہاتھ صاف کرتے ہیں، شاندار یا کھٹارا کار بھی ہمارے زیراستعمال ہوتی ہے۔  فیملی گیدرنگ میں چہکتے بھی ہیں، دوستوں اور فیملی کے ساتھ ناردرن ایریاز ک� [..]مزید پڑھیں