تبصرے تجزئیے

  • خاندان خطرات کی زد میں !

    اسلام آباد کی عائلی عدالتوں میں، ہر روز طلاق وخلع کے تین سو مقدمات درج ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے، مہینے میں نو ہزار۔ایک دوست نے جب مجھ سے اس خبر کا ذکر کیا تو میں چونک اُٹھا۔ میرا پہلا تاثر تھا: یہ اعداد وشمار مبالغہ آمیز ہیں۔  میں نے اپنے دوست سے بھی یہی کہا۔ اس نے جواب میں [..]مزید پڑھیں

  • پہلے پتھر کا انتظار

    کل ورجینیا امریکہ سے ناصر محمود شیخ کا فون آیا۔ سیلانی آدمی ہے جب بھی امریکہ جاتا ہے، وہاں کی ترقی نہیں لوگوں کے رویوں کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ بتا رہے تھے میں نے دیکھا دو کالے پولیس والے کھڑے ہیں اور آگے جس ہال میں اجلاس ہو رہا تھا،وہاں تک نہیں جانے دے رہے۔  ان کے پاس چلا گیا۔ و [..]مزید پڑھیں

loading...
  • آزادی رائے یا آزادی کردار کشی؟

    آزادی رائے کیا ہے؟ کیا آزادی رائے کا مطلب یہ ہے کہ جس کی چاہے عزت اچھال دو، کردار کشی کر دو، گالم گلوچ اور غیر اخلاقی مہم برپا کردو اور جواب میں قانون دستک دے اور کوئی نوٹس موصول ہو تو رونا دھونا شروع کر دو کہ میں نے کون سا غلط کام کیا ہے کہ مجھے نوٹس بھیج دیا؟ الزام تراشی، کردار [..]مزید پڑھیں

  • صنم سعید تو ٹھیک ہے پر عمران خان کب رہا ہو گا؟

    میں بھی ایک ادنیٰ سا انٹرنیٹ صارف ہوں۔ پر یہ بات اُن لوگوں اور اداروں کو یاد دلانا ضروری ہے جو ہم جیسے کروڑوں انٹرنیٹ صارفین یا نیٹزئینز کو ہلکے میں لیتے ہیں (صارف اور نیٹزئین میں بس بن کباب اور برگر جتنا فرق ہے۔) اگر دنیا کی فارغ ترین مخلوق کی بات کی جائے تو وہ ہم ہیں اور اس کمپ [..]مزید پڑھیں

  • ناروے کا بابا مستان شاہ!

    پرسوں ایک بابا جی میرے پاس تشریف لائے ۔ فقیری چوغا پہنا ہوا، گلے اور ہاتھوں میں منکے، ملگجی داڑھی ، سر پر سندھی ٹوپی ، ہاتھ میں ایک نوٹ بک جس کے متعلق یہ بھی پتا چلا کہ اس میں مختلف افسروں نے بابا جی  کے ولی اللہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے آتے ہی اپنا عصا زمین پر مارا اور ک� [..]مزید پڑھیں

  • محض الطاف حسن قریشی کے تذکرے پر گناہگار

    الطاف حسن قریشی مرحوم کے بارے میں چند توصیفی کلمات لکھنے کی وجہ سے ’’روشن خیال‘‘ مشہور ہوئے گروہ کی ملامت سے اْکتاکر منگل کی صبح ایک کالم لکھ دیا تھا۔ وہ چھپ گیا تو میری دانست میں حساب برابر ہوگیا۔ ملامت کا سلسلہ مگر رکا نہیں۔ مختصراً یوں کہہ لیں کہ محاورے والا کمبل � [..]مزید پڑھیں

  • جھاڑو کون پھیرے گا؟

    اس ملک میں چٹپٹی خبروں کی کبھی کوئی  ’تھوڑ‘ نہیں پڑی۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی گرما گرم اور مسالے دار خبر ہمارا دل لگائے اور ذہن بھٹکائے رکھتی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چار دن بعد وہ چٹ پٹی خبر کسی سرکاری فائل کی طرح داخلِ دفتر ہو جاتی ہے اور وقت کی گرد اسے ہمارے ذہن سے بھلا دیتی � [..]مزید پڑھیں

  • بے بس مسلم عوام اور افغانستان میں بھوک کا ڈیرہ

    افغانستان میں پھول جیسے بچے موت کی وادی میں اُتر رہے ہیں۔ جہاں اناج اُگتا تھا، آج وہاں بھوک کی فصل کھڑی ہے۔ افغانستان کا خر بوزہ یہاں آتا تو لوگ اس کی طرف لپکتے تھے۔ اس کی مٹھاس ایسی کہ ہونٹ سِل جائیں۔ ایک خربوزہ ہی کیا ثمرات کی ایسی بہتات کہ سبحان اللہ۔ تعلیم، تہذیب، اَن گن [..]مزید پڑھیں