تبصرے تجزئیے

  • کس کو سناؤں حال اردو زبان کا!

    آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ آج ہم کس بے بسی میں پھنس کر ایسی بات کہنے جارہے ہیں۔ دراصل ایسا میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ میری لوگوں سے اردو زبان و ادب پر تبادلہ خیال ہوتا ہے تو لوگوں میں کافی مایوس ہوتا ہوں۔توسوچا کیوں نہ آج ہم اردو زبان و ادب کے حوالے سے اپنا موقف پیش کریں۔ تاہم مجھے ن [..]مزید پڑھیں

  • ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

    بجٹ کی سالانہ رسم سے عوام کی دلچسپی ہر گزرتے سال کم ہوئی ہے۔ جو تھوڑی بہت دلچسپی باقی ہے وہ بھی اس یقین کی تشفی کے لئے  ہے کہ بجٹ میں کہیں کوئی بھولا بھٹکا ریلیف تو نہیں آن گھسا۔ یا کوئی ایسی پالیسی کی تبدیلی تو بھول چوک سے شامل نہیں ہوگئی جس سے خلق خدا کو آنے والے وقتوں میں اش [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہے؟

    ناقدین خود پاکستان کی خارجہ پالیسی  کے معاملے پر معترض ہیں، لیکن سوال یہ ہے کیا واقعی پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کے دور میں خارجہ پالیسی کی جو مبادیات (بنیادی امور) طے کر دی گئی تھیں، زمینی حقائق کی تلخی اور تندی کے باوجود پاکستانی ریاست ان پر � [..]مزید پڑھیں

  • وائٹ ہاؤس کی مکھی

    یہ مکھیوں کی دنیا ہے، اس کا اپنا ایک نظام ہے مکھیاں پیغام سنتی بھی ہیں اور سناتی بھی ہیں۔ ان کی بھنبھناہٹ ہی ان کی زبان ہے۔ میں انہی مکھیوں میں سے ایک دیسی مکھی ہوں۔ تضادستان میں رہائش کی وجہ سے اندرونی سیاست سے بھی اچھی طرح واقف ہوں اور عالمی سیاست کی خبر بھی لیتی رہتی ہوں۔ جس [..]مزید پڑھیں

  • ایران کو شکست کیوں ہوئی؟

    اٹھارہویں صدی کے آخری برس تھے۔ فرانس میں نیپولین اپنی حکومت قائم کر چکا تھا۔ امریکی آئین اپنی ابتدائی آزمائش کے مرحلے میں تھا۔ ہندوستان کے جنوب مغربی ساحلوں پر میسور کا حکمران فتحیاب علی ٹیپو سلطان اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہا تھا۔ روشن خیالی کی تحریک اپنا تاریخی کردار ادا کرنے ک� [..]مزید پڑھیں

  • چند سوالات

    چند سوالات ہیں جن کے جوابات میں کبھی تلاش نہیں کر پایا۔ جب بجٹ اسمبلی میں پیش ہوتا ہے تو اس کی حیثیت ایک تجویز کی ہوتی ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ اسے یکم جولائی سے نافذ العمل ہونا ہے۔ اس سے پہلے یہ اسمبلی سے منظور ہوگا۔ یہی سبب ہے کہ بجٹ پیش ہونے کے بعد اس پربحث ہوتی ہے اور مجوزہ بجٹ � [..]مزید پڑھیں

  • امریکی صدر کی گفتنی اور غزہ کا چینلج

    عربی ادب کا معروف محاورہ ہے ”من کثرکلامہ کثر خطاؤہ“ جو جتنا زیادہ باتونی ہوگا اتنی ہی اس کی غلطیاں بھی زیادہ ہوں گی۔ جو جتنی اہم یا حساس ذمہ داری پر فائز ہوتا ہے، اُسے اتنا ہی محتاط ہونا چاہیے۔ ہم نے امریکی صدور کو ہمیشہ نپی تلی ذمہ دارانہ گفتگو کرتے دیکھا سنا ہے لیکن پر� [..]مزید پڑھیں

  • ایرانی سپریم لیڈر سبک دوش ہوجائیں

    ایران اسرائیل جنگ بند ضرور ہوگئی لیکن فریقین میں اسے جیتنے کے دعوے کرنے کا مقابلہ جاری ہے۔ گزشتہ روز نیتن یاہو نے اسرائیل کی مکمل کامیابی کا اعلان کیا تھا اور آج ایران کے سپریم  لیڈر  آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایران کی مکمل کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران  ’ف [..]مزید پڑھیں