تبصرے تجزئیے

  • شخصی انا مقدم ہے یا ملک؟

    اب تک پاکستانی عوام پر یہ بات تو واضح ہو چکی ہے کہ اس ملک میں مقبولیت نہیں قبولیت سے حکومت ملتی ہے۔ لیکن جنہوں نے قبولیت کا شرف بخشنا ہوتا ہے، وہ بھی پاکستان کے شہری ہیں۔ کسی کا کتنا بڑا عہدہ ہو، مرتبہ ہو یا جتنا بھی طاقتور ہو، ہے تو وہ بھی پاکستانی ہی۔ اور میرا نہیں خیال کہ کوئ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • خورجی کے خوارج اور گرو کی بانی

    میلان کنڈیرا کا ناول ’وجود کی ناقابل برداشت لطافت‘ ہماری نسل کا نمائندہ ادبی استعارہ ٹھہرا۔ ہماری نسل نے ساٹھ کی دہائی کے خواب آگیں برسوں میں آنکھ کھولی۔ جوانی میں سرد جنگ کے خاتمے اور عالمی جمہوری ابھار سے جذبوں کو مہمیز کیا۔ مذہبی دہشت گردی کا جنم دیکھا اور اب بڑھاپے م� [..]مزید پڑھیں

  • ریاست بمقابلہ عمران خان اور دو نمبر انقلابی

    اتوار 24نومبر2024 کی صبح اٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں۔ ریاست بمقابلہ عمران خان کے عنوان سے 2022 کے اپریل سے جاری مقابلے بتدریج حق وباطل کے معرکوں میں بدلنا شروع ہوگئے۔ آج کے دن وہ نظر بظاہر ’آخری مرحلے‘ میں داخل ہوں گے۔ سادہ ترین الفاظ میں ریاستی زعم اور سیاستدان کی ضد کے ماب� [..]مزید پڑھیں

  • کون جیتا؟ کون ہارا ؟

    دنیا بھر میں کھیل، سیاست اور انتخابات میں ہار اور جیت بڑی واضح ہوتی ہے مگر میرے پیارے اور پسندیدہ تضادستان میں جیت اور ہار کے تصورات دنیا بھر سے الگ ، نرالے، انوکھے اور منفرد ہیں۔ یہاں جو جیتتا ہے اسے یقین نہیں ہوتا کہ وہ صحیح جیتا ہے یا کسی نے اُسے جتوایا ہے دوسری طرف جو ہارت� [..]مزید پڑھیں

  • اساں تیرا قد ویکھنا

    پارٹی تو خیر تھی ہی بشری بی بی کے گھر کی، پی ٹی آئی کی قیادت سنبھالنے کے بعد انہوں نے زبان کیا کھولی، گویا بھونچال آ گیا۔ کسی نے اس خود کش حملہ قرار دیا کسی نے پاکستان سعودیہ تعلقات تباہ کرنے کی سازش۔ مجھے ڈاکٹر انعام الحق جاوید یاد آئے۔ ڈاکٹر صاحب اردو اور پنجابی کے باکمال [..]مزید پڑھیں

  • روس اور یوکرین کی جنگ اور تیسری جنگ عظیم کے امکان!

    روس اور یوکرین کے درمیان تنازعہ، جو 2014میں کیمیا کے الحاق اور مشرقی یوکرین میں شورش کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے، جس نے 2022کے آغاز میں ایک مکمل جنگ کی صورت اختیار کر گیا۔ اس جنگ نے نہ صرف یورپ بلکہ دنیا بھر میں سلامتی، معیشت اور بین الاقوامی تعلقات پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ اس تنازعے [..]مزید پڑھیں

  • قلعہ بند پاکستان

    تحریک انصاف کا احتجاج روکنے کے لیے صرف اسلام آباد و راولپنڈی کو ہی حصار بند نہیں کیا گیا بلکہ ملک بھر کے دیگر شہروں میں بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے مظاہرین کو روکا گیا۔ احتجاج ناکام بنانے کے لئے گرفتاریاں اور گھروں پر چھاپے مار کر قبل از وقت  حراست کا سلسلہ اس کے علاوہ ہے۔    [..]مزید پڑھیں

  • ایک دوسرے کو ڈرانے والے

    پاکستان تحریک انصاف کو تحریک احتجاج یوں کہا جا سکتا ہے کہ گزشتہ گیارہ برس سے اس نے سڑکوں کو آباد کر رکھا ہے۔2013 کے انتخابات کے بعد سے آج تک اِس نے اپنے کارکنوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا۔  نواز شریف حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کے لیے حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ مل کر جو د� [..]مزید پڑھیں