تبصرے تجزئیے

  • معین نظامی کی پیش گوئیاں

    قارئین! یہ عاجز تو سوشل میڈیا پر نہیں ہے تاہم ایک دوست نے برادرِ عزیز معین نظامی جو نظم کے میرے پسندیدہ ترین شاعر ہیں، کی بیس عدد پیش گوئیاں بھیجی ہیں جنہیں میں صدقہ جاریہ سمجھ کر من و عن آپ تک پہنچا کر اپنا فرض پورا کر رہا ہوں۔ اگر آپ سب صدقِ دل سے زندگی بھر مجھے بھی خلوص اور � [..]مزید پڑھیں

  • ملتان میوزیم، ایک ثقافتی شناخت

    ملتان اور دمشق دو ایسے زندہ شہر ہیں جن کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنی تہذیب و ثقافت کی شناخت پر ہی زندہ رہتی ہیں۔ ایک عرصے سے اس شہر کی قدامت اور تاریخی حیثیت اس بات کی متقاضی تھی کہ ملتان کی تاریخ و ثقافت کو نمایاں کرنے کے لئے اس خطے میں ایک میوزیم قائم ہو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • انسانی رشتوں کے احترام کی علامت الطاف حسن قریشی

    تاریخ یاد نہیں رہی مگر 2022 کے مارچ کا پہلا ہفتہ تھا۔ ایک ٹیلی فون نمبر سے جو میرے لئے نامعلوم تھا کوئی رابطہ کرنا چاہ رہا تھا۔ بالآخر قبولیت کا بٹن دبا کر ہیلو کیا تو دوسری جانب سے نہایت شائستگی سے تصدیق چاہی گئی کہ میں نصرت جاوید ہوں۔ جی ہاں کہا تو ’’میں الطاف حسن قریشی بو� [..]مزید پڑھیں

  • الطافِ صحافت

    الطاف حسن قریشی صاحب کو دیکھ کر مجھے اپنا بچپن یاد آ جاتا تھا۔ ہمارے والد صاحب بچوں کے دو جرائد ’’نونہال‘‘ اور ’’تعلیم و تربیت‘‘ ہمیں پڑھنے کیلئے دیتے تھے لیکن میں ان جرائد سے زیادہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘ اور’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘میں دلچسپی � [..]مزید پڑھیں

  • الطاف صاحب کی یاد میں

    ایک صدی کا قصہ ہے، اسے ایک کالم میں کوئی کیسے قلمبند کرے۔ اس کے بیان کے لیے کتاب چاہیے، افسانہ کہ گفت نظیری کتاب شد۔الطاف حسن قریشی ایک فرد کا نام نہیں، ایک تاریخ کا عنوان ہے۔ وہ صحافت کے ایک پورے عہد کے بانی ہیں۔ اس میں مبالغہ نہیں کہ اردو صحافت میں ان کی کوئی مثال نہیں۔ وہ ای� [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر عشرت حسین اور بیورو کریسی کا زوال

    اس سوال کا جواب تو آج تک نہیں مل سکا کہ قیام پاکستان کے دس پندرہ سال بعد تک ترقی کرتے پاکستان کر ریورس گیئر کیسے لگا، دنیا کے بہت سے ممالک کو اپنی ترقی سے حیرت زدہ کرنے والا نوزائیدہ ملک یکدم اُلٹا کیوں چلنے لگا۔اس پر ایک جامع تحقیق ہونا چاہئے تھی، مگر نہیں ہوئی،کیونکہ اس میں تو [..]مزید پڑھیں

  • معراج الدین آڑھتی اور اس کا نازک اندام بکرا

    دو ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میرا کالم لکھنے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ میں نے کالم کا آغاز ہی اپنی ذہنی کیفیت کے بیان سے کیا اور اتفاق یہ کہ وہی کالم ہٹ ہو گئے ، جس پر دوستوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ یار! آئندہ تم کالم لکھا ہی اس وقت کرو جب تمہارا کالم لکھنے کو جی نہ چاہ رہا ہو۔ آپ یقی [..]مزید پڑھیں