تبصرے تجزئیے

  • کامران لاہور

    قنوطیت بہت ہوگئی فکر مند ہو کے بھی دیکھ لیا، کڑھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا، تنقید بھی کرلی، تعریف کا سہارا بھی لے لیا، طعنے بھی دیئے، غصے میں بات کی۔ پیار سے ہاتھ جوڑے کوئی فرق نہیں پڑا۔ نہ یہ مانتے ہیں نہ وہ مانتا ہے۔ آج خیال آیا کہ ارد گرد کو عمر خیام کی نظروں سے بھی دیکھ [..]مزید پڑھیں

  • مذاکرات کا ڈھونگ جاری رہے گا مگر کس لیے؟

    ابھی تک یہ طے نہیں ہے  کہ حکومت یا تحریک انصاف باہمی مذاکرات سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔   دونوں طرف سے اس موضوع پر  یکساں  طور سے درشت بیان بازی  ہورہی ہے۔  بظاہر کوئی بھی بات چیت میں سنجیدہ نہیں ہے لیکن   حکومت اور تحریک انصاف  دونوں  یہ ثابت کرنے  [..]مزید پڑھیں

loading...
  • نظریے کے نام پر ایک اور جنگ

    ہماری تاریخ فسادات سے بھری پڑی ہے اور ہر فساد نظریے کے نام پر ہوا۔ افغانستان میں دہائیوں پر محیط شورش، جنگ اور خانہ جنگی، یہ تمام کارروائیاں نظریے کے نام پر ہوئیں۔جنہیں مجاہدین کا لقب دیا گیا ،اُن کا نعرہ نظریہ تھا اور اُن کے خلاف جو طالبان اُٹھے اُن کا نعرہ بھی وہی نظریہ تھا۔ [..]مزید پڑھیں

  • ویت نام ایسا نہ تھا!

    لگ بھگ 32 سال قبل کا ذکر ہے، ایک کاروباری سلسلے میں ویتنام جانے کا موقع ملا۔ ہوچی من شہر کے ایئرپورٹ پر اترے تو خستہ حال پرانی آرمی بیرک کا گمان گزرا۔ کسی بھی طور پر بین الاقوامی ہوائی اڈے جیسا انفرااسٹرکچر نہ تھا۔ ایئرپورٹ کی جھلک سے اندازہ ہو رہا تھا کہ ملک میں مفلسی کا راج � [..]مزید پڑھیں

  • شخصیت پرستی کا نقصان

    پاکستانی سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہاں ادارہ سازی کے بجائے افراد زیادہ مضبوط ہوتے ہیں۔ اور انہی کی بالادستی ہوتی ہے۔ شخصیت پرستی کی بنیاد اگر نفرت، تعصب اور منفی بنیادوں پر یا شدت پسندی و جنونیت پر ہوگی تو اس سے قوم� [..]مزید پڑھیں

  • مولانا کی جمہوریت ذاتی خواہشات کی اسیر ہے

    جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں اسٹبلشمنٹ کی زور ذبردستی اور طاقت پر مکمل کنٹرول رکھنے کے بارے میں درست مؤقف اختیار کیا ہے۔ لیکن وہ یہ بتانے سے  گریز کرتے ہیں کہ  ایک آئینی انتظام میں اسٹبلشمنٹ یا فوج کو  فیصلہ سازی  کا  موقع کیسے فراہم [..]مزید پڑھیں

  • حادثہ تاریخ مرتب نہیں کرتا

    قوموں کی تاریخ علم، معیشت اور تمدن کے ارتقا سے مرتب ہوتی ہے۔ اس سفر میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی خاص واقعے سے جڑا ہوا تقویمی عدد علامتی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پچھلی صدی میں 22 جون 1941 کو جرمنی نے روس پر حملہ کیا تو اس روز دوسری عالمی جنگ کا نقشہ ہی تبدیل نہیں ہوا، نتیجہ بھی طے پا گیا۔ [..]مزید پڑھیں

  • ٹرمپ دور اور پاکستان

    ہیلری کلنٹن نے درست ہی کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ساس بہو والے ہیں۔ کچھ لوگ ان تعلقات کو رولر کوسٹر سے بھی تشبیہ دیتے ہیں، تیزی سے اوپر اور نیچے جانے والا جھولا۔ کبھی آپ کو پاتال میںلے جاتا ہے اور کبھی آسمان میں اڑاتا ہے۔ صدر بش اور جنرل مشرف دوست تھے ۔ ریگن اور [..]مزید پڑھیں

  • خوابیدہ جمہوریت

    میری طرح آپ کو بھی وہ دور یاد ہوگا جب ارکان اسمبلی کے ڈیروں پر بڑی رونق ہوتی تھی۔لوگ صبح و شام وہاں اپنے مسائل حل کرانے پہنچتے اور رکن اسمبلی بھی پوری تندہی کے ساتھ کسی کو فون کرتا، کسی کے نام رقعہ لکھتا اور کسی کو خود ملنے چلا جاتا کہ کسی طرح لوگوں کو ریلیف مل سکے۔ یہ کبھی جمہو [..]مزید پڑھیں