تبصرے تجزئیے

  • پانچ بڑے اور قِصّہ ساکھ کا!

    پہلے قِصّہ سن لیجئے۔ ’کہتے ہیں کہ ارب پتی عرب شیخ نے رولز رائس کار کمپنی سے رابطہ کیا اور کہا کہ دس دن کے بعد میری نوبیاہتا بیوی لندن آنے والی ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ اسکو نئی رولز رائس کار پر ایئرپورٹ سے ریسیو کروں۔ رولز رائس کی انتظامیہ نے شیخ سے کہا کہ ہمارے پاس تو گاڑ [..]مزید پڑھیں

  • ہماری نہ سنئے اوروں کی سن لیجئے

    ہم گناہگارو ں کی بات کس نے سننی ہے لیکن جب اسی ادارتی صفحے پر لکھنے والے ہمارے کولیگ خورشید ندیم جو بہت معاملہ فہم انسان ہیں، کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ ملک میں ایک ہی ذکر یعنی ذکرِ عمران رہ گیا ہے جس میں لوگوں کی دلچسپی ہے تو مملکتِ خداداد کے تمام حلقوں کو بات سمجھ جانی چاہیے کہ م [..]مزید پڑھیں

  • کیا خدا موجود ہے؟ایک مفتی اور ملحد کی بحث!

    یہ سوال کہ کیا خدا موجود ہے؟ انسانی تاریخ کے قدیم ترین اور بنیادی سوالات میں سے ایک ہے۔ ہر دور میں انسان نے کائنات، اپنی ذات اور زندگی کے مقصد پر غور کرتے ہوئے اس سوال کا سامنا کیا ہے۔  ایک مسلمان کی حیثیت سے اس سوال کا جواب صرف عقلی یا سائنسی دلائل تک محدود نہیں بلکہ ایمان، � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک اور مشکل سال۔۔2026

    اب یہ ایک سالانہ رسم سی ہے کہ میڈیا اور تھنک ٹینک ادارے گزرے سال میں کیا کھویا کیا پایا پر عرق ریزی کرتے ہیں۔ اس رسم کے دوسرے حصے کے طور پر نئے سال میں کیا کھونے اور پانے کے امکانات ہیں پر سر کھپاتے ہیں۔  سال کے آخری اور نئے سال کے ابتدائی دنوں میں یہ غلغلہ رہتا ہے ، اس کے ب� [..]مزید پڑھیں

  • الٹے ہور زمانے آئے!

    بابا بلّھے شاہ نے اپنی ایک مشہور کافی میں زمانے کے الٹ پھیر کا ذکر کیا ہے۔ بلّھے شاہ کا زمانہ تھا یا آج جھلّے شاہ کا زمانہ ہے ، زمانہ واقعی الٹ گیا ہے۔ بلّھے شاہ نے کہا ہے: کاں لگڑ نوں مارن لگے، چڑیاں جرّے ڈھائے گھوڑے چُگن روڑیاں اَتے گدھوں خوید پوائے زمانے میں اس قدر الٹ ہو [..]مزید پڑھیں

  • دل محرر ہے…

    دریاؤں کے رنگ نیارے ہیں۔ اونچے پہاڑوں کی بل کھاتی ترائیوں سے کہیں جھرنے اور کہیں چشمے کی صورت نکلتی آبی لکیریں ناچتی گاتی میدانوں کی جانب بہتی ہیں۔ پاکستان تو وادی سندھ ہے۔ دریائے سندھ قراقرم کے جنوب میں گلگت کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ کالا باغ سے قریب ایک سو کلومیٹ� [..]مزید پڑھیں

  • قصہ ایک مضمون کا

    پاکستان میں انگریزی زبان کے قابلِ ذکر اخبارات کی تعداد چار ہے۔ ان میں ایک اخبار اشاعت کے اعتبار سے اگر چوتھے نہیں تو تیسرے نمبر پر ہوگا۔ اس کے باقاعدہ قارئین اگر ایک نہیں تو دو ہاتھوں کی انگلیوں پر شمار ہوتے ہوں گے۔ اگر کوئی مبالغہ کرنا چاہے تو اس تعداد کو دگنا کر دے۔  اس اخ� [..]مزید پڑھیں