تبصرے تجزئیے

  • بیرونی دورے اور اندرونی تنقید!

    اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور نیّت کا احوال صرف خدائے پاک جانتا ہے۔ اعمال اور نتائج کا جائزہ لینے کاحق ہر خاص و عام کو ہے مگر نیّت پر شک کرنا نہ کسی فرد کو زیبا ہے اور نہ کوئی یہ اختیار رکھتا ہے کہ وُہ کسی کی نیّت کو جان سکے۔ اس لئے وُہ افراد جو کسی کی نیّت پرحملہ آور ہوتے ہ� [..]مزید پڑھیں

  • طاقت اور محبت میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا

    ذورین نظامانی کون ہے، بہت ہی کم لوگ جانتے ہوں گے۔ اس ملک میں ٹریبیون پڑھنے والوں کی تعداد بھی قابل ذکر نہیں ہے۔ مگر جب کسی چیز کو زبردستی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ زیادہ ابھر کر سامنے آ جاتی ہے۔ محبت کبھی طاقت سے نہیں کروائی جا سکتی، محبت کو ہمیشہ پیار، احساس اور انصاف � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • دھورندھر: آرٹ اور بی جے پی کا نفرت بھرا بیانیہ

    آج کل بھارت اور پاکستان کشیدگی کے پس منظر میں تیار کی گئی بھارتی فلم ”دھورندھر“ کے متعلق بہت چرچا ہو رہا ہے۔ بعض لوگ اسے مختلف وجوہات کے باعث تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں اور بعض کا کہنا ہے کہ یہ ایک فلم ہے اور اسے خالصتاً فلم کے طور پر دیکھا اور انجوائے کیا جانا چاہیے۔ مگر یہ [..]مزید پڑھیں

  • آگے خطرہ ہی خطرہ

    آگے بہت گڑبڑ ہے ۔ ایک طرف ٹیکنالوجی بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دوسری طرف بدامنی اور علاقائی تنازعات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ دسمبر 2025 میں کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے جو بتا گئے کہ آنے والا وقت صرف پاکستانیوں کیلئے نہیں بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرناک ہے ۔ مئی 2025 میں [..]مزید پڑھیں

  • نئے سال سے پرانی امیدیں

    دھڑا دھڑ شادیاں ہو رہی ہیں، لگاتار دعوت نامے مل رہے ہیں، کچھ میں شریک ہو جاتے ہیں، کچھ میں نہیں ہو پاتے۔ جن شادیوں میں شریک ہوتے ہیں ان میں اکثر کوئی معاشرتی ذمہ داری نبھا رہے ہوتے ہیں۔ بہت کم ایسی شادیاں ہوتی ہیں جن میں شوق سے شرکت کی جاتی ہے۔ اس شوق کے پیچھے عموماً ایک وجہ ہو� [..]مزید پڑھیں

  • میرے خیال کا بے قابو گھوڑا

    پی آئی اے کو مزید حکومتِ پاکستان کی ملکیت میں رکھنا ایسا ہی تھا جیسا کسی پھنڈر بھینس کو دروازے پر باندھے رکھنا۔ ایسی بھینس جو نہ صرف دودھ دینے اور بچے پیدا کرنے سے فارغ ہو چکی ہو بلکہ روزانہ دو من چارہ بھی کھاتی ہو۔  آپ نے اس کے چارے کی مد میں مارکیٹ کے ڈیڑھ دو لاکھ روپے بھی [..]مزید پڑھیں

  • لکھنا تو ہو گا

    ریاست اور سماج ایک ہی موضوع کی گرفت میں ہیں۔ اس نے ہمیں جمود کا شکار کر دیا ہے۔ ہم متحرک دکھائی دیتے ہیں مگر ورزش کی سائیکل پر سوار اس کھلاڑی کی طرح جو کئی میل کا سفر طے کرنے کے باوجود ایک ہی مقام پر کھڑا رہتا ہے۔ بطور کالم نگار، میں بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ قائداعظم پر دو کالم لک [..]مزید پڑھیں