تبصرے تجزئیے

  • میاں نواز شریف کی توجہ کیلئے

    میاں نواز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہوگئے۔ ان کیلئےیہ ایک علامتی سا عہدہ لگتا ہے، نواز شریف کا سیاسی قد کاٹھ اتنا ہے کہ بادی النظر میں کوئی بھی عہدہ ان کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھ پر طنز کیا جاتا ہے کہ میں میاں صاحب کے حوالے سے جانبدار ہوں، جبکہ مجھ میں اور طنز کرنے والوں [..]مزید پڑھیں

  • بانی تحریک انصاف کی نقصان کے ’ازالے‘ کی کوشش

    عاشقان عمران خان اپنے قائد کو بہت سادہ شمار کرتے ہیں۔ ذات کا رپورٹر ہوتے ہوئے لیکن میں ان کا بطور سیاستدان 1996 سے بغور جائزہ لینے کو مجبور تھا۔ میرا مشاہدہ ان کے حوالے سے پنجابی کا وہ محاورہ یاد دلاتا ہے جو ایک سادہ دکھتی دوشیزہ کو بالآخر یہ اعلان کردینے کو اکساتا ہے کہ وہ ’ب [..]مزید پڑھیں

  • پاکستانی سپریم کورٹ کا ناقابل قبول رویہ

    سپریم کورٹ آف پاکستان اور  نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ترجمان کی طرف سے سامنے آنے والے دو بیانات  میں ملکی اور عالمی سیاسی امور پر اظہار رائے کیا گیا ہے۔   بدقسمتی سے یہ بیانات ایسے اداروں کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں جنہیں ملکی سیاسی پالیسیوں کے بارے میں فیصلے کرنے یا رائے د [..]مزید پڑھیں

loading...
  • احمد فراز سے احمد فرہاد تک

    یہ 1977 کے ابتدائی ایام تھے ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم تھے اور احمد فراز وفاقی وزارتِ اطلاعات کے ایک افسر تھے ۔ احمد فراز کو بھٹو حکومت کے خاتمے سے بہت پہلے مارشل لا کے بوٹوں کی آواز سنائی دینے لگی تھی اور وہ اپنے اشعار کے ذریعے جمہوریت کو درپیش خطرات کا اظہار بھی کرنے لگے۔ اس [..]مزید پڑھیں

  • ترقی کی خواہش کو لگام دیں، ورنہ…

    ’مجھ پر ایک عجیب بات کاانکشاف ہوا ہے ۔ جب بھی میں کسی بے حد سیانے اور عالم فاضل شخص سے بات کرتا ہوں تو مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ دنیا میں خوشی کا حصول اب ممکن نہیں رہا۔ لیکن جب میں اپنے باغبان سے بات کرتا ہوں تو میرا یقین بالکل اُلٹ جاتا ہے‘۔ برٹرینڈ رسل۔ رسل نے یہ بات شاید سا� [..]مزید پڑھیں

  • چوہدری پرویز الٰہی کی خاموش رہائی

    تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہی تقریباً ایک سال کی قید کے بعد رہا ہو گئے ہیں۔ ضمانتیں منظور ہونے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا ہے۔ ورنہ ضمانتیں تو انہیں پہلے بھی ملی تھیں لیکن ان کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی تھی۔ کیونکہ کسی اور کیس میں گرفتاری ڈال دی جاتی تھی۔ ایک دفعہ تو عدال� [..]مزید پڑھیں

  • گھونسلہ جلانے والے

    سعدی شیرازی بھی کیا نادر روزگار ہستی تھے۔ بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مجو / در سینہ ہائے مردمِ عارف مزارِ ما۔ آپ سے تو درویش کا کیف و کم پوشیدہ نہیں۔ فارسی کجا، بندہ تو مادری زبان پنجابی ڈھنگ سے نہیں جانتا۔ اردو کی تحصیل میں پچاس برس گزرے۔ اگلے روز سید شاہد بخاری (روز نامہ جن� [..]مزید پڑھیں