تبصرے تجزئیے

  • جماعت اسلامی کی منتخب امارت( 4)

    میاں طفیل محمد کی پراصرار معذرت اور امارت سے رضاکارانہ سبکدوشی کی استدعا کے باوجود 1987 کے جماعتی انتخاب میں اراکین کی اچھی خاصی تعداد نے انہیں امیر بنانے کے لیے ووٹ کاسٹ کیا۔ لیکن اکثریت نے قاضی حسین احمد کو پسند کیا۔ ان دنوں جنرل ضیا الحق پر ہمارے قومی میڈیا میں شدید ترین تنق [..]مزید پڑھیں

  • پتھر اور موم کے مجسمے

    وہ پتھر قابلِ رشک ہوتے ہیں جنہیں کوئی ایسا سنگ تراش میسر آ جائے جو اُن میں پوشیدہ مجسموں کی تراش خراش کر کے انہیں ایک شاہکار بنا دے۔ وگرنہ ایسے اَن گنت مجسمے پتھروں میں ہی چھپے رہ جاتے ہیں جنہیں کوئی فنکار یا ہنر مند اپنی تخلیق کے سانچے میں نہیں ڈھالتا۔ مجھے یہ خیال لندن میں جگ [..]مزید پڑھیں

  • آرمی چیف کس جمہوریت کا راستہ ہموار کریں گے؟

    عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے لیکن اس کے مندرجات ابھی سے جاری کردیے گئے ہیں۔ تحریک انصاف کی اطلاعات کے مطابق اس خط میں عمران خان  نے کہاہے کہ  ’فوج ملک کا ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ عوام اور فوج کو آمنے سامنے کبھی نہیں آنا چاہیے لیکن ہم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سیاست کے بادشاہ کے نام!

    ہم گناہگار لوگ انہیں مولانا کہیں یا امامِ پاکستان، ان کے آبائی حلقے ڈیرہ اسماعیل خان کے ووٹر انہیں سیاست کا بادشاہ کہتے اور بلاتے ہیں۔ وہ واقعی سیاست کے بادشاہ ہیں۔ دلیل اور منطق کے ہتھیار سے لیس ہو کر جب بھی وہ کسی مسئلے پر بات کرتے ہیں ان کے ناقدوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے۔ و� [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے گناہ عورتیں کیوں ڈھوئیں؟

    اچھا خاصا مشاعرہ جم رہا تھا۔ قومی تشکیل میں قرارداد مقاصد کی سبز قدمی کا بیان مقصود تھا۔ شمع ابھی قبلہ شبیر احمد عثمانی کے رخ انور کی بلائیں لے رہی تھی۔ تشبیب کی موج ہوائے واقعہ کے ہلکوروں میں دلیل قائم کر رہی تھی کہ گریز نے یوں دخل اندازی کر کے محفل برہم کر دی جیسے کوئٹہ کے لٹ [..]مزید پڑھیں

  • دوبئی ان لاک کو لاک ہی سمجھیں!

    عوام کو تو عرصہ دراز سے  معلوم تھا کہ دوبئی میں ہے کچھ خاص جو ہر مالدار وہاں عجیب عالم شوق و مستی میں جاتا ہے۔ لاہور کراچی  کے مابین روزانہ فلائٹس اور ان کے مسافروں کی تعداد پاکستان  سے دوبئی روزانہ جانے والی فلائٹس اور مسافروں کی تعداد سے کہیں کم ہے۔ یہ سلسلہ ہائے ذوق � [..]مزید پڑھیں

  • مقدمات کے فیصلے بروقت کیوں نہیں ہوتے؟

    پنجاب حکومت نے ہتک عزت کا نیا قانون لانے کا اعلان کیا ہے۔ نئے قانون کے تحت اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہتک عزت کے مقدمات کا فیصلہ 180دن میں کیا جائے۔  اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں ٹربیونل بنانے کی بات بھی کی جا رہی ہے تاکہ مقدمات کا جلد ف [..]مزید پڑھیں

  • عدلیہ اور پارلیمنٹ میں بڑھتی تلخیاں

    عدلیہ اور ریاست کے طاقتور ترین ادارے کے مابین تلخیاں اور بدگمانیاں شدید سے شدید تر ہورہی ہیں۔ ان کے تعلقات کو معمول پر لانا مجھ دو ٹکے کے رپورٹر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ہر حوالے سے بے اختیار عوام کی اکثریت کے لئے ممکن ہی نہیں۔ کتابوں میں پڑھ رکھا ہے کہ جدید ریاستوں کے باسی ” [..]مزید پڑھیں