تبصرے تجزئیے

  • ملتان بدل رہا ہے

    گرد و گرما، گدا و گورستان کی شناخت بنتا ملتان اب قدیم سے جدید حسن میں ڈھلتا جا رہا ہے، جہاں اس تاریخی شہر کی قدامت میں ایک حسن جھلکتا ہے وہاں اس کے جدید حسن میں بھی نکھار آ تا جا رہا ہے۔ لگتا ہے کہ پنجاب حکومت کی نظر عنایت بھی جنوبی پنجاب کے اس خطے پر پڑ گئی ہے، اس لئے ملتان بدلا � [..]مزید پڑھیں

  • سوہنی کا بینڈ اور ہمارا سیاسی شعور

    بٹوارے سے پہلے ہندوستان کے کچھ شہروں نے رنگ و رامش میں نام پایا تھا۔ انگریز حکومت کا صدر مقام کلکتہ صحافت کا پہلا مرکز تھا۔ ہندوستان کا پہلا ریڈیو سٹیشن یہیں قائم ہوا۔ واجد علی شاہ اور گوہر جان نے یہاں راگ راگنی اور رقص کی چمن آرائی کی۔ پارسی سیٹھوں کے طفیل بنارس تھیٹر کا مرکز ب [..]مزید پڑھیں

  • خواجہ آصف کی چھلانگیں

    خواجہ محمد آصف تضادستانی سیاست اور صحافت کی رونق ہیں۔ وہ کچھ نہ کچھ ایسا کہتے رہتے ہیں کہ جس سے سیاسی سکوت کے سمندر میں لہریں پیدا ہوجاتی ہیں۔ خواجہ صاحب زبردست مہم جُو اور بہترین پیراک ہیں۔ ہر سال موسم گرما میں نیکر پہنے دوستوں کے ہمراہ دریا میں چھلانگ لگانے کی ان کی سالانہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایک مسکراتا ہوا چہرہ جو اَب ہم میں نہیں

    میں امریکہ کی سب سے چھوٹی ریاست رہوڈ آئی لینڈ کے صدر مقام پراویڈنس میں ہوں۔ آپ لوگوں کی آسانی کیلئے اتنا بتانا ہی کافی ہے کہ میں فی الوقت دنیا کے مہربان ترین آنجہانی جج فرینک کیپریو کے شہر میں ہوں۔ فرینک کیپریو اس دنیا سے رخصت ہو چکا لیکن ایسے لوگ تادیر دلوں میں قیام کرتے [..]مزید پڑھیں

  • تین سماجی مغالطے

    ’ہر امیر آدمی لازم ہے کہ بددیانت ہوگا۔ یہاں دیانت داری کے ساتھ پیسہ کمانا ممکن نہیں‘۔’ ہر صاحبِ منصب لازم ہے کہ کسی ناجائز طریقے سے اس مقام تک پہنچا ہو گا۔ پاکستان میں ممکن نہیں کہ کسی کو میرٹ پر منصب ملے‘۔ ’کسی صاحبِ حیثیت کی تعریف لازم ہے کہ ناجائز مراعات کیلئے [..]مزید پڑھیں

  • 9 مئی کا بھوت

    تحریک انصاف کے چار لیڈروں کو 9 مئی سے متعلق ایک  اور مقدمے میں دس دس سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ ماضی کے فیصلوں کے مطابق اس بار بھی شاہ محمود قریشی الزامات سے بری قرار پائے ہیں۔   یوں لگتا ہے کہ  سانحہ9 مئی کسی بھوت کی طرح ملک کو چمٹ گیا ہے  اور کوئی عمل یا طریقہ اس سے نجات [..]مزید پڑھیں

  • خاتون کا نقاب، کیا نتیش کمار ذہنی مفلوج ہیں؟

    انڈیا میں بڑھتے ہوئے انتہا پسند رحجانات کے باعث مسلمانوں کے لیے حالات اس قدر بدتر ہوں گے، یہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ جن مسلمانوں نے برصغیر کی تقسیم کے وقت دو قومی نظریے کی مخالفت کرکے انڈیا میں رہنے کو ترجیح دی، وہ اس وقت عجیب کشکمش میں ہیں۔ نام نہاد سیکولرازم کے لبادے [..]مزید پڑھیں

  • رضی الدین رضی: یادداشت اور فراموشی کے درمیان

    (بھائی رضی الدین رضی کی کتاب ’رفتگان ملتان‘ کے تیسرے ایڈیشن پر یہ چند سطریں 18  اکتوبر 2025 کو ملتان آرٹس کونسل کے محترم ڈائریکٹر سلیم قیصر صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر تحریر کی تھیں۔ ان میں رضی بھائی کی والدہ ماجدہ کا ذکر بھی آیا۔ تب معلوم نہیں تھا کہ رضی الدین رضی کی والدہ م [..]مزید پڑھیں