تبصرے تجزئیے

  • قیدیوں کا ریپ ریاستی پالیسی ہے

    خان یونس کے محمد زکی البکری کو ان پانچ عقوبت خانوں کے نام تو یاد نہیں ہیں جہاں اس نے بیس ماہ گزارے۔البتہ وہ خونخوار تربیت یافتہ کتوں کی شکلیں اور ان کتوں کو قیدی پر چھوڑنے والے محافظوں کے قہقہوں اور طنزیہ جملوں کا نقشہ ضرور کھینچنے کے اب تک قابل ہے۔ ’تن پر کوئی کپڑا نہیں چھو [..]مزید پڑھیں

  • سارا ملک ہی ای لائسنس پر چل رہا ہے

    دو تین روز قبل ایڈیشل آئی جی ساؤتھ پنجاب نے ملتان ریجن میں بننے والے ڈرائیونگ لائسنسوں پر ٹریفک پولیس کی جانب سے عائد کردہ میڈیکل فیس کو پانچ سو سے کم کر کے تین سو روپے کرنے کا حکم دے کر اس رقم کو چالیس فیصد کم کرکے اس مد میں وصول ہونے والی رقم میں جو گھاٹا ڈالا ہے ، اس کے اثرات � [..]مزید پڑھیں

  • علاقائی دانش کی ضرورت

    پاکستان جیسے سماج میں کیا ایسی علمی روایت پنپ سکتی ہے جو قومی ریاست کے تقاضوں سے ماورا، علاقائی پس منظر میں مسائل پر اظہارِ خیال کر سکے؟نظریاتی سیاست کے دور میں کسی حد تک یہ ممکن رہا۔ نظریہ چونکہ جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہوتا ہے اس لیے عالمِ انسانیت کو ایک اکائی کے طور پر دیکھ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • انڈین ڈیموکریسی کی جیت

    ان دنوں عالمی امور و معاملات میں ایران امریکا خلفشار اس قدر چھایا ہوا ہے کہ دھیان کسی اور طرف جا ہی نہیں رہا۔ آج بھی من یہی چاہ رہا ہے کہ اس ایشو کے وہ پہلو جو واضح نہیں ہیں ان پر اظہار خیال کیا جائے، لیکن اس کے ساتھ کئی دوسرے اہم ایشوز ہیں جو نظر انداز ہو رہے ہیں۔ جیسے کہ حالیہ � [..]مزید پڑھیں

  • بجٹ میں خسارہ، غربت میں اضافہ

    وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے  لگ بھگ ساڑھے تین ہزار ارب روپے خسارے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے۔ قومی اخراجات کا تخمینہ 18771 ارب روپے ہے جبکہ کل آمدنی کا اندازہ 15264 روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اس بھاری خسارے کا بجٹ  پیش کرنے والی کوئی حکومت عوام کے لیے کسی قسم کی سہولت کا وعدہ ن [..]مزید پڑھیں

  • انڈیا میں کاکروچ سونامی

    ویسے بھی انڈیا کی شدید گرمیوں میں ہر گلی، کوچے یا گھروں میں کاکروچوں یا لال بیگ کی بھر مار ہوتی ہے اور انہیں مارنے کی دوائی ہمیشہ ہاتھوں میں رہتی ہے لیکن ’سیاسی لال بیگ‘ کی آمد سے انڈیا کے سیاسی منظر نامے میں جو ہلچل دیکھی گئی ہے، وہ کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھی اور انہیں � [..]مزید پڑھیں

  • اب تو آرام سے گزرتی ہے

    گزشتہ روز میری ملاقات ایک متکبر شخص سے ہوئی۔ یہ ایک دولت مند شخص تھا اور رعونت سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے تعلقات حکومت کے بڑوں سے ہر دور میں مستحکم رہے۔ یہ جب زمین پر چلتا تھا تو ایسے لگتا تھا آسمان پر چل رہا ہو۔ یہ جب ان لوگوں سے بات کرتا تھا جو اس کے زیر نگیں تھے یا جو اسے کوئی فائ [..]مزید پڑھیں

  • ’ہائی برڈ‘ اب قابلِ عمل نہیں رہا

    سہیل وڑائچ مجھے بہت عزیز ہیں۔ہم عصر کالم نگار ہوتے ہوئے مگر بدھ کے روز ان سے بے حد پیشہ وارانہ حسد محسوس ہوا۔ بے شمار صحافی ،قارئین اور چند (یہاں چند پر غور ضروری ہے ) سیاستدان رات گئے تک فون کے ذریعے مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرتے رہے کہ برادرم نے بدھ کی صبح چھپے کالم میں موجودہ حکو [..]مزید پڑھیں

  • بے فکر رہیں، کوئی تبدیلی نہیں

    آج کل حکومت کے گھر جانے کے بہت سے کالم دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک سینئر کالم نویس نے بھی اپنے سیاسی تجزیہ کی بنیاد پر یہ پیشین گوئی کی ہے کہ جولائی کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کا زوال شروع ہو جائے گا۔ محترم کے کالم کی آخری لائن یہی ہے کہ ـ ’خیال رکھیں نقارہ � [..]مزید پڑھیں

  • ایران ہٹ دھرمی کی بجائے ہوشمندی سے کام لے!

    ایران اور امریکہ کی طرف سے ایک دوسرے پر حملوں  کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اپریل کے شروع میں طے پانے والی جنگ بندی عملی طور سے ختم ہو چکی ہے۔ اگرچہ یہ فرق نوٹ کیا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر اب ایران کو نیست و نابود کرنے کا اعلان کرنے کی بجائے کسی اچھی ڈیل کی بات کرتے ہیں اور حتمی � [..]مزید پڑھیں