تبصرے تجزئیے

  • سیاسی سہولتوں کی بحث

    کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات ریورس گیئر لگا کر کم ہو جائیں۔ ہماری آپ کی معمول کی زندگی میں تو اس کی شہادت نہیں ملتی لیکن حج کے اخراجات میں ایسا ہو گیا ہے۔ ہمارے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد نے سوچا کہ اچھا اگر یہ منصب سنبھال ہی لیا ہے تو کیوں نہ کچھ کام بھ� [..]مزید پڑھیں

  • کمرشل مشاعرے

    میں ایک عرصے سے ذہنی طور سے اس تگ و دو میں تھا کہ کسی طرح فرصت سے آج کل کے مشاعروں کے بارے میں چند دلچسپ حقائق کا انکشاف کروں۔حقیقتاً دنیا کے اتنے  مسائل ہیں کہ مشاعرے کے حوالے سے لوگوں سے بات تو ہوتی ہے تاہم باقاعدگی سے اس پر کوئی تفصیلی گفتگو نہیں ہو پاتی۔ پھر سوچا کہ آخر کی� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہمارے ملک کے ادارے کس طرح کام کرتے ہیں؟

    راقم نے کئی بازاروں میں اکثر یہ اشتہار دیکھا ہے کہ ہمارے پاس انڈین باجرے کا بیج دستیاب ہے۔ ہمارے ملک میں جب پیاز کم پڑ جاتے ہیں تو پھر ہم بھارت سے پیاز درآمد کرتے ہیں۔ سنا ہے کہ کیلے بھی بھارت سے منگوائے جا رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے اندر ترک ٹماٹر کا بیج بہت مقبول ہے۔ (مقبول سیاس� [..]مزید پڑھیں

  • ’زندہ باد‘ کا نعرہ

    پاکستانی سیاست میں جو کچھ ہو رہا ہے ، اِس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ انتخابات کی تاریخ دی جا چکی ہے لیکن بے یقینی کے بادل ہیں کہ چھٹنے کا نام نہیں لے رہے۔بیرون ملک ہو یا اندرون ملک جہاں دو، چار پاکستانی اکٹھے ہوتے ہیں، یہی سوال زیرِ بحث رہتا ہے کہ انتخابات کب ہوں گے؟ جو کچھ نظر آ ر [..]مزید پڑھیں

  • یہ دیسی لبرل کون ہے؟

    ہمارے ہاں اگر کوئی تھوڑی ہوشمندی یا روشن خیالی کی بات کرے تو اسے فوراً دیسی لبرل کا طعنہ دے دیا جاتا ہے۔ حالاں کہ کوئی شخص دیسی یا بدیسی لبرل نہیں ہوتا۔ انسان یا لبرل ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ لبرل ہونے کی کچھ بنیادی نظریاتی شرائط ہیں، جن پر پورا اترے بغیر کوئی شخص لبرل نہیں ہو سکت [..]مزید پڑھیں

  • زندہ دلوں اور ادیبوں کے شہر میں!

    چند برس پہلے تک میرا فیصل آباد آنا جانا رہتا تھا۔ وہاں چناب کلب میں بہت معیاری مشاعروں کا اہتمام بڑے سلیقہ سے کیا جاتا تھا ۔ ان دنوں ریاض مجید اور انور محمود خالد، آپ سمجھیں ادب کے گھنٹہ گر تھے ۔ انور محمود خالد اللہ کو پیارے ہو گئے اور ریاض مجید الحمدللہ اپنے پیاروں کے درم� [..]مزید پڑھیں

  • ایک خوفناک ہوائی سفر

    حکم ہوا کہ آپ دو گھنٹے میں پہنچ جائیں۔ میں نے گھڑی دیکھی، باہر ٹریفک کارش دیکھا اور عرض کی’عالی جاہ ڈیڑھ گھنٹہ تو مجھے گاڑی شہر سے باہر نکالنے میں لگ جائے گا، باقی کا حساب خود لگا لیں‘۔ دوسری طرف کچھ دیر خاموشی رہی۔ پھر آواز آئی ’آپ میرے ایئرکرافٹ پر آجائیں‘۔ [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت اور لبرل ازم کی طلاق، دایاں بازو

    1964 میں جب فیلڈ مارشل ایوب خان اور مادر ملت فاطمہ جناح کے مابین صدارتی معرکہ ہوا تو لگا کہ آمریت شکست کھا جائے گی اور جمہوریت فتح مند ہوجائے گی۔ شاعرانہ مزاحمتی اور جمہوری بیانیہ عوامی شاعر حبیب جالب کی نظموں نے ایسا جمایا کہ خلقت میدان میں نکل آئی۔ ایسا نہ ہوسکا، پھر عوام 19 [..]مزید پڑھیں