تبصرے تجزئیے

  • یہ کیسا الیکشن، کیسی جمہوریت ہے؟

    ایسے الیکشن کے مذاق کی کیا ضرورت ہے! اس تماشے سے جمہوریت کا کیا تعلق۔ مجھے تو دکھ اس بات کا ہے کہ آئین اور جمہوریت کے نام پر قوم کے کوئی پچاس ارب روپے انتخابات کے نام پرضائع کیے جا رہے ہیں جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ جس طرح ہو رہا ہے اس کا تعلق نہ جمہوریت سے ہے نہ ہی آئین و قا [..]مزید پڑھیں

  • دونوں زندہ باد

    پاکستان اور ایران کو جغرافیے ہی نے نہیں تاریخ نے بھی ایک دوسرے سے باندھ رکھا ہے۔ دونوں کے درمیان صدیوں کے ثقافتی، لسانی،سماجی اور مذہبی روابط ہیں۔ برصغیر کے مسلمان حکمرانوں کی زبان فارسی رہی،اور انگریزی سے پہلے فارسی ہی نے سرکاری زبان کے طور پر اپنا سکہّ چلائے رکھا۔ یہاں تک ک� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • 8 فروری کے بعد کیا ہوگا؟

    پیپلز پارٹی  کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری کی گھبراہٹ، تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان کی جھنجھلاہٹ اور مسلم لیگی (ن)  قیادت کی پراسرار ’مسکراہٹ‘ سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ 8 فروری  کوہونے والے انتخابات میں کچھ ’بڑا‘ ہونے والا ہے۔  ایک پارٹی کی غیر متو [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی مایوسی کا موسم کیسے بدلے گا؟

    مایوسی گناہ ہے، مایوسی ہمیں آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف دھکیلتی ہے۔ اگر آپ کچھ کرنا بھی چاہیں توکچھ نہیں ہوتا بلکہ آپ اپنی مایوسی کو دوسروں تک بھی منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ ہمیں مایوسی کے بجائے امید کا دامن تھامنا چاہیے اور اہل دانش کا کام بھی اندھیرے کے مقابل� [..]مزید پڑھیں

  • کشمیر کاز کو اولین ترجیح دینے کا عہد

    آزاد کشمیر کی اتحادی حکومت کے وزیر اعظم چودھری انوا ر الحق نے  آزاد کشمیر کے ریاستی اخبارات و جرائد کی تنظیم  آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر امجد چودھری سے کشمیر ہائوس اسلام آباد میں ملاقات کے موقع پہ کہا کہ آزادکشمیر کے پرنٹ میڈیا کو چاہیے کہ وہ خود کو تحریک آزادی کیل� [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کے خلاف عالمی سازشیں

    ایٹمی دھماکوں کے بعد عالمی استعمار نے پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں جس کے نتیجے میں وطنِ عزیز کے معاشی بحران میں آنے کا خدشہ تھا کیونکہ باہر کہیں سے بھی ہمیں کوئی مالی امداد نہیں مل رہی تھی۔ دوست ممالک عالمی طاقتوں کے حاشیہ بردار ہونے کی وجہ سے اس مشکل گھڑی میں کھلے بندوں تعا� [..]مزید پڑھیں

  • شاہد محمود ندیم: ضمیر کا ناقابل اصلاح قیدی

    سلمان رشدی نے اپنے اولین ناول میں تقسیم ہند کے ارد گرد دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی نسل کو ”نیم شب کے بچوں“ کا نام دیا تھا۔ ناول میں نو آبادیاتی غلامی سے نجات کو ایک نئی دنیا کی پیدائش کی امید سے تعبیر کیا گیا تھا۔ میرے ملک میں رہنے والوں کو سرحد کے پرلی طرف ان امیدوں کی ت� [..]مزید پڑھیں