تبصرے تجزئیے

  • گیم اب سیاستدانوں کے ہاتھ سے نکل چکی

    جس بدھ کی صبح اُٹھ کر یہ کالم لکھ رہا ہوں اس کی شام وزیر اعظم شہباز شریف صدر مملکت کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی ایڈوائس بھجوادیں گے۔ انہوں نے فوری طورپر مذکورہ استدعا پر منظوری کے دستخط ثبت نہ کئے تب بھی آئندہ 48گھنٹوں میں جولائی 2018 کے انتخابات کی بدولت وجود میں آیا پارلیمان کا ا [..]مزید پڑھیں

  • ملکی تاریخ کی ’ناکام ترین قومی اسمبلی‘

    وزیر اعظم شہباز شریف نے  قومی اسمبلی توڑنے کے لئے صدر عارف علوی کو ایڈوائس بھیج دی ہے۔ صدر نے اس بارے میں حکم جاری نہ کیا تو اڑتالیس گھنٹے بعد  اسمبلی ازخود تحلیل ہوجائے گی۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن کو آئین کے  مطابق 90 دن کے اندر انتخابات کروانا پڑیں گے۔  تاہم   حکوم [..]مزید پڑھیں

  • عبوری حکومت ، دیدار کا عالم کیا ہو گا؟

    کتابی طور پر تو ملک میں حاکمیت کا تعین1973کے آئین میں کر دیا گیا تھا لیکن عملی طور پر حاکمیت کا تعین اب بھی ملک میں کشمکش اور انتشار کی وجہ بنا ہوا ہے۔ مشرف دور میں ملک میں ملٹری ڈیموکریسی کی اصطلاح استعمال ہوئی۔ مشرف مغرب کو کہا کرتے تھے کہ پاکستان باقی دنیا سے مختلف ہے، پاکستا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جمہوریت کے آخری ایام

    آج سے 43 سال قبل 9 اگست 1980 کو سول اسپتال کراچی میں ایک تشدد زدہ لاش، پولیس اور قانون نافذ کرنےوالوں کی حفاظت میں لائی گئی۔ اس دوران اسپتال کے اردگرد سیکورٹی بڑھا دی گئی۔ جس ڈاکٹر نے موت کی تصدیق کی وہ خود اپنے زمانے میں این ایس ایف طلبہ تنظیم سے وابستہ رہا تھا۔ گو کہ پولیس نے مر [..]مزید پڑھیں

  • جناح ثالث اور مکافاتِ عمل؟

    کہا جاتا ہے کہ وقت یا زمانہ سب سے بڑا استاد ہے کسی بھی شخص کو بڑی بڑی یونیورسٹیاں جو کچھ نہیں سکھلا سکتیں وہ وقت یا زمانہ سکھلا دیتا ہے۔ والعصر کی رمز یہی ہے۔ وقت کی گردش سے ہے چاند تاروں کا نظام، وقت کی ٹھوکر میں ہے کیا حکومت کیا سماج۔ وقت کی پابند ہیں آتی جاتی رونقیں، وقت ہے پھو� [..]مزید پڑھیں

  • ایک اور نااہلی، یہ سلسلہ کب رکے گا؟

    گزشتہ چند ماہ سے سیاسی محاذ پر آنے والی ڈرامائی تبدیلیوں کودیکھتے ہوئے انیسویں صدی کے مشہور انگلش شاعر رابرٹ براؤننگ کی  نظم Patriot into Traitor بار بار ذہن میں آجاتی ہے۔نظم "محب وطن اور  غدار" ایک سیاسی لیڈر کے عروج و زوال کی داستان بہت موثر اور قائل کرنے والے انداز میں بی [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان اور ایک پیش گفتہ موت کی روداد

    زندگی میں جو پہلا ناول انگریزی میں پڑھا تھا اور پورا سمجھ آیا تھا وہ کولمبیا کے شہرہ آفاق مصنف گیرئیل گارشیا مارکیز کا تھا۔ ناول بھی نہیں ناولٹ تھا۔ ہسپانوی سے انگریزی میں ترجمہ ہوا تھا۔ ماحول بالکل دیسی لگا۔ ہیرو کا نام نصر تھا باقی کردار بھی کچھ جانے پہچانے تھے۔ شاید اسی لی [..]مزید پڑھیں

  • سفر تمام ہوا؟

    عناصرِ فطرت کی باگ ڈور قادر ِمطلق کے ہاتھ میں ہے۔ موسموں کے تیور اور ہواؤں کے رُخ بدلتے دیر نہیں لگتی۔ کوئی انسان کتنا ہی طاقت ور اور زور آور کیوں نہ ہو، اس کی کرتب کاریوں اور حیلہ سازیوں کی ایک حد ہوتی ہے۔ اُس کے بعد کارخانۂ قدرت کی کوئی نادیدہ مشین حرکت میں آجاتی ہے۔ تب وہ [..]مزید پڑھیں