تبصرے تجزئیے

  • زندگی تماشہ: ایک دلیرانہ کوشش

    پاکستانی فلم میکرز کو کبھی بھی اظہاررائے کی آزادی نہیں رہی اور ہر دور میں فلموں کو ایک ناقابل فہم سنسرشپ کا سامنا رہاہے۔ 1954 میں جب ملک کے  وزیراعظم محمد علی بوگرہ اور گورنر جنرل ملک غلام محمد تھے، حکومت نے ہدایتکار ڈبلیو زیڈ احمد (وحید الدین ضیاء الدین احمد) کی اردو فلم “ر� [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان کی گرفتاری کے ملکی سیاست پر اثرات

    تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں  سزا    اور اٹک جیل منتقلی کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ اس  کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ اگرچہ عمران خان گزشتہ کچھ عرصہ سے اپنی گرفتاری  کے بارے میں متنبہ کرتے رہے تھے لیکن عام طور سے   [..]مزید پڑھیں

loading...
  • افغان پالیسی کے قبرستانی ہیولے (3)

    پاکستان کی افغان پالیسی پر تحریروں کے اس سلسلے کا مقصد محض یہ واضح کرنا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کے خلاف بدترین ریاستی جرم افغان معاملات میں مداخلت رہی ہے۔ اس فضیحتے میں پاکستان کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کے خلاف بدترین ر [..]مزید پڑھیں

  • بھٹکا ہوا کارواں

    ہر شہر، ہر خطے کی اپنی اپنی خوشبو ہوتی ہے، جب کوئی شہر یاد آتا ہے ایک نافہ سا وا ہو کر مشام کو معطر کر جاتا ہے۔ یہ مشک شہروں کے مزاج سے پھوٹتی ہے، اور یہ مزاج شہروں اور خطوں کی تاریخ اور جغرافیہ سے جنم لیتا ہے۔  سادہ لفظوں میں کسی شہر کی یاد آئے تو وہاں کا فن تعمیر یاد آتا ہے، آ� [..]مزید پڑھیں

  • جرمنی کی اترن بھارت نے کیوں پہنی؟

    اس وقت بھارت میں جس تیزی سے عام ذہن مخصوص اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے مسلح کیے جا رہے ہیں۔آنے والے برسوں میں یہ روش اس ریاست کے ماتھے کا کلنک بن سکتی ہے اور یہ وہ ٹیکہ ہے جسے دھونے کے لیے اکثر اوقات عشرے بھی ناکافی ہوتے ہیں: یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے لمحوں نے خطا کی ت� [..]مزید پڑھیں

  • ادھوری بشارتوں اور پوری تشہیر کے سلسلے

    گزشتہ دو تین ہفتے بہت مصروف گزرے، عوام کے بھی اور حکومت کے بھی۔ عوام پٹرول اور آٹے دال کے بھاؤ جاننے کے بعد اپنے آپ کو سنبھالنے میں مصروف رہے، گاہے تین حرف آئی ایم ایف پر بھیجنے کو، گاہے اپنی قسمت اور گاہے سیاسی رزم آرائی کو۔ حکومت کے یہ دو تین ہفتے عوام سے بھی زیادہ مصروف [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت یرغمال بنائی جا چکی ہے!

    حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں نے 9 اگست  تک قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات منعقد کروانے کے لئے 90 دن کی مہلت ہوگی۔ اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کرنے کے باوجود بظاہر ابھی تک  نگران وزیر اعظم کے لئے کسی نام پر &rs [..]مزید پڑھیں

  • سویلین قیادت اور کٹھ پتلیاں؟

    ان دنوں پاکستانی سیاست ایک نئے فیز میں داخل ہورہی ہے۔ ہماری موجودہ جیسی تیسی قومی اسمبلی اپنی مدت پوری کرتے ہوئے 9اگست کو تحلیل ہو رہی ہے، جس کے ساتھ ہی ن لیگ کی قیادت میں قائم کی گئی اتحادی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ساتھ ہی اس کی کارکردگی کے حوالے سے بحث ہوگی اور اس کا تقابل پی ٹ [..]مزید پڑھیں

  • کیا انڈین سپریم کورٹ آرٹیکل 370بحال کر سکتی ہے؟

    خبر ہے کہ انڈین سپریم کورٹ تین روز قبل روزانہ کی بنیاد پر قریبا دو درجن ایسی درخواستوں پر سماعت کا آغاز کر دیاہے جس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق 5اگست2019کو کیے گئے انڈین حکومت کے فیصلے کوغیرقانونی اور غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت (آرٹیکل 370) ک� [..]مزید پڑھیں