تبصرے تجزئیے

  • بڑے گھر کی کہانی

    کالم نویسی ایک مشکل کام ہے۔ بولنا آسان ہے، لکھنا مشکل ہے۔ پھر مختصر الفاظ میں اپنی بات مکمل لکھنا اور بھی مشکل کام ہے۔ اس لیے اب نوجوان صحا فی لکھنے کے بجائے بولنے کے پیشے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ عاصمہ شیرا زی ان چند خاتون صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں لکھنے اور بولنے دونوں میں مہارت [..]مزید پڑھیں

  • انتخابات نہیں ، اعتماد سازی ضروری ہے

    حیرت  ہے عمران خان  ملک میں انتخابات کا فوری انعقاد چاہتے ہیں لیکن یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے  سیاسی مکالمہ کی بجائے فوج اور عدلیہ کو مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔ یہ طریقہ  ملک کی نام نہاد  سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے غیر جمہوری  طرز عمل کی محض ایک مثال ہے۔  تحریک انصاف کے [..]مزید پڑھیں

  • چین میں عوامی بے چینی کیا رخ اختیار کرسکتی ہے؟

    چین نے پچھلے تیس سالوں میں قابل رشک معاشی ترقی کی ہے۔ یہ ترقی ایک طرح سے عوامی بے چینی، جو تیانمین سکوئر میں ایک زبردست احتجاج کی شکل میں نظر آئی، کو دوبارہ پیدا ہونے سے روکنے کی ایک حکمت عملی تھی۔ چین کی بے مثال معاشی ترقی نے عوام میں جمہوریت، آزادی رائے کی خواہشں اور اپنے حکم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہم اور ہمارے تیسرے درجے کے خواب

    جب مراکش کی ٹیم پرتگال کو ہرا کے عالمی فٹ بال کپ کی بانوے برس کی تاریخ میں سیمی فائنل میں پہنچنے والی پہلی عرب مسلم افریقی ٹیم قرار پائی تو اس ٹیم کے کھلاڑیوں کی گفتگو سے ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ کام کیسے ہو گیا۔ ” ہمیں اپنی ذہنیت بدلنا ہو گی۔ کمتری کا خیال دل سے نکالنا ہوگا۔ یہ [..]مزید پڑھیں

  • ایکسٹینشن کا شیش ناگ

    ’ایکسٹینشن‘ کے عنوان سے میرا گزشتہ کالم انگریزی محاورے کے مطابق محض ’نوکِ تودہِ برف تھا یا یوں کہہ لیجئے کہ یہ اُس ’شیش ناگ‘ کی ہلکی سی سسکاری تھی جو اکثروبیشتر پوری قوت سے پھنکارتا اور زہرکا چھڑکاؤکرتا رہتا ہے۔ مارشل لا ایڈمنسٹریٹروں کیلئے یہ کوئی مسئلہ نہ� [..]مزید پڑھیں

  • ہاتھی پالنے کی ہمت پیدا کریں

    پچھلی کتھا کا اختتام ہم نے انتخاب عالم کے عالمی ریکارڈ پر کیا تھا۔ میرا عقیدہ ہے، میرا یقین ہے کہ کچھ بھی تمام نہیں ہوتا۔ کچھ بھی ختم نہیں ہوتا۔ ظاہری اختتام کے ساتھ غیر متوقع کہانی کی ابتدا ہو چکی ہوتی ہے۔ وقفہ وقفہ سے اس موضوع پر ہماری آپس میں بات چیت ہوتی رہے گی۔ سرِدست پچ� [..]مزید پڑھیں

  • ساقی فاروقی: لندن میں اردو ادب کا لائٹ ہاؤس

    کسے معلوم تھا کہ 21دسمبر 1936 کو گورکھپور کے ایک زمیندار گھرانے میں اپنے والدین کی شادی کے 8برس بعد پیدا ہونے والا بچہ بڑا ہو کر اردو شعر و ادب کے آسمان پر ایک روشن ستارے کی طرح جگمگائے گا۔ بچے کے دادا خیرات نبی صدیقی مجسٹریٹ نے نومولود کا نام قاضی محمد شمشاد نبی صدیقی رکھا اور اس ک� [..]مزید پڑھیں

  • مصالحت کا دعویٰ ، نفرت کی سیاست

    وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ اعلان خوش آئیند ہے کہ  وہ قوم و ملک کے مفاد میں سیاسی مفاہمت کے لئے ایک سو قدم بڑھانے کے لئے تیار ہیں۔ ان کی اس بات سے بھی اتفاق کیا جاسکتا ہے کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی بلکہ سب فریقین کو مل کر کسی مشترکہ پلیٹ فارم  کے لئے کام کرنا پڑے گا۔ لیکن  [..]مزید پڑھیں

  • رائے عامہ کی تشکیل کا سیاسی چیلنج

    پاکستان ایک مشکل صورتحال سے دو چار ہے ۔ یہ بحران آج کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں پرمشتمل ہے اوراس کی ذمے داری بھی سب فریقین پر آتی ہے۔ اس وقت ہمیں جس بحران کا سامنا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ ہماری سیاسی، سماجی ، معاشی سمیت داخلی و خارجی پالیسیاں ہیں ۔ اسی طرح اس ناکامی کو محض حکومتوں یا [..]مزید پڑھیں