تبصرے تجزئیے

  • وزیر اعظم کون؟

    ایک بار علاقے کے معززین میرے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کو پاکستان کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے جواب میں عرض کی کہ میں ان بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن آپ لوگوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں خود کو وزیر اعظم بننے کے لئے ذہنی طور پر تیار کر لوں گا۔ آپ بس کمپین شر [..]مزید پڑھیں

  • مارشل لاءناگزیر ہو چکا ہے؟

    پاکستان نظام کی تبدیلی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے، ہم نے صدارتی نظام بھی چلانے کی کوشش کر کے ایک طرف رکھ دیا ہے۔ جنرل ایوب خان مرد آئین کے طور پر سبز انقلاب کے معمار کہے جاتے ہیں، اِن کے دور حکمران میں معاشی ترقی ہوئی لیکن تقسیم دولت کے غیر منصفانہ نظام کے غلبے کے باعث دولت سمٹ کر 22خ [..]مزید پڑھیں

  • اور بلبوں میں روشنی نہ رہی!

    غور سے دیکھیں تو ہمارے آس پاس کچھ ایسے بزرگ بھی پائے جاتے ہیں جو بس پڑے پڑے ’سینئیر‘ ہو گئے۔ اس اتفاقی ’سنیارٹی‘ کے باعث جہاں ان میں دیگر خواص پیدا ہوئے وہیں ایک اہم ترین خاصیت، جملہ حاضرین کو جی بھر کے دہلانا اور ان میں مایوسی، یاسیت اور قنوطیت کے جذبات کو ابھ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہائی کورٹس کا دائرہ اختیار

    پاکستان میں سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار پورے ملک پر ہے۔ سپریم کورٹ کے نیچے پانچ ہائی کورٹس ہیں۔ چاروں صوبوں کا اپنا اپنا ایک ہائی کورٹ ہے جب کہ وفاقی دارالحکومت کا الگ اسلام آباد ہائی کورٹ ہے جس کا دائرہ اختیار صرف اسلام آباد تک ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے اپنے اپنے � [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی بلوغت و شائستگی کی کمی کیوں؟

    سیاست حماقت کا نام نہیں، دانش زیر کی اور حاضر دماغی کا کام ہے جس میں بدلتے حالات کے تیور پڑھنے اور اُن کے مضمرات و ثمرات سے بچنے یا مستفید ہونے کی صلاحیت و لچک نہیں وہ اکھڑ مزاج، اکڑ اور جمود کا شکار ہے۔  وہ جتنی مرضی کرکٹ کھیلے ، سیاست اس کے بس کا روگ نہیں۔ بہت سے احباب یہ است [..]مزید پڑھیں

  • اپنے شکار ڈھونڈتا مکار سسٹم

    اندھی نفرت وعقیدت کی بنیاد پر ہوئی تقسیم کی وجہ سے گزشتہ کئی برسوں سے جو تہمتیں، طعنے اور ذلتیں برداشت کی ہیں انہیں ذہن میں رکھوں تو مجھے سینہ پھلا کر فواد چودھری کی گرفتاری کا دفاع کرنا چاہیے۔ ربّ کریم نے مگر ڈھٹائی والی خصلت سے محروم رکھا ہے۔ کسی بھی سیاسی کارکن کے نظریات سے [..]مزید پڑھیں

  • موروثیت تو اچھی ہوتی ہے

    شام چوراسی گھرانے کے استاد سلامت علی خان فخرسے بتایا کرتے تھے کہ وہ بارہ پشتوں سے گا بجا رہے ہیں، خان صاحب کی ایک ریکارڈنگ ہے جب وہ آٹھ دس برس کے تھے، راگ بسنت گا رہے ہیں اور بول ایسے پکڑ رہے ہیں کہ سننے والا دنگ رہ جائے۔  اور سپاٹ تان اتنی شفاف لے رہے ہیں کہ بڑے بڑے دانتوں میں [..]مزید پڑھیں