تبصرے تجزئیے

  • ڈالر کی جمبو پرواز کے بعد

    پاکستان ہمیشہ ہی نازک حالات سے گزرتا رہا ہے یہاں شاذو نادر ہی حالات تسلی و تشفی بخش رہے ہیں،تخلیق پاکستان کے و قت اس ملک کا قیام ہی ناممکن نظر آتا تھا پھر اس کی بقاء بھی مشکوک تھی، دشمن امید لگائے بیٹھے تھے کہ تقسیم ہند کسی وقت بھی واپس ہو سکتی ہے کیونکہ نوزائیدہ مملکت کے مالی، ا [..]مزید پڑھیں

  • لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر

    جدید میڈیا ہمارے زمانے کا ایک عظیم معجزہ ہے۔ اس میں ہر طرح کا روایتی اور غیر روایتی میڈیا شامل ہے۔ پاکستان پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے دور سے گزر کر اب سوشل میڈیا کے پیچیدہ دور میں داخل ہو رہا ہے۔ ہر طرف معلومات کی فراوانی ہے۔ مگر اس کے باوجود پاکستان میں اگر کوشش بھی کی جائے ت [..]مزید پڑھیں

  • دل مضطر اور ہماری معاشی نادانیاں

    اندھیری رات میں بجلی کی لپک لمحے بھر کو منظر روشن کرتی ہے مگر اسے دن کا اجالا تو نہیں کہہ سکتے۔ درد مند ذہن امید اور نا امیدی کی دبدھا میں یوں گرفتار ہیں جیسے دن اور رات کے آنے جانے میں زنجیر کی کڑیوں ایسا اٹوٹ تعلق۔ نا امید ہوں تو جینے کا جواز کیا باقی رہے گا اور امید کی کرن ڈھونڈ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عوامی دکھوں کا مداوا کون کرے گا؟

    اس وقت پاکستانی سیاست ایک دلچسپ فیز میں داخل ہوچکی ہے اور مستقبل کی تصویر بڑی حد تک واضح ہوچکی ہے جس کی بڑی سچائی یہ ہے کہ ن لیگ کیلئے اس وقت کا اصل چیلنج یا خطرہ کوئی کھلاڑی یا اس کا پریشر گروپ نہیں اول و آخر ٹامک ٹویاں مارتی ہماری بدحال معیشت ہے۔ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے وا� [..]مزید پڑھیں

  • واہ کیا ملک ہے!

    واٹ آ کنٹری: انکل سرگم کے نام سے معروف فاروق قیصر کے ایک کیریکٹر کا یہ مشہور تکیہ کلام تھا۔ فاروق قیصر ان معدودے چند لوگوں میں سے تھے جن کے لکھے ہوئے اکثر ڈائیلاگ اور کردار ضرب المثال بنے۔ ان کی شاعری، وائس اوور ، پتلیوں کے کردار اور اسکرپٹ  ہماری عام زندگی کا عکس تھے، یہی وج [..]مزید پڑھیں

  • وزیر اعظم کون؟

    ایک بار علاقے کے معززین میرے پاس آئے اور کہا کہ ہم آپ کو پاکستان کا وزیر اعظم دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے جواب میں عرض کی کہ میں ان بکھیڑوں میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن آپ لوگوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میں خود کو وزیر اعظم بننے کے لئے ذہنی طور پر تیار کر لوں گا۔ آپ بس کمپین شر [..]مزید پڑھیں

  • مارشل لاءناگزیر ہو چکا ہے؟

    پاکستان نظام کی تبدیلی کے کنارے تک پہنچ چکا ہے، ہم نے صدارتی نظام بھی چلانے کی کوشش کر کے ایک طرف رکھ دیا ہے۔ جنرل ایوب خان مرد آئین کے طور پر سبز انقلاب کے معمار کہے جاتے ہیں، اِن کے دور حکمران میں معاشی ترقی ہوئی لیکن تقسیم دولت کے غیر منصفانہ نظام کے غلبے کے باعث دولت سمٹ کر 22خ [..]مزید پڑھیں

  • اور بلبوں میں روشنی نہ رہی!

    غور سے دیکھیں تو ہمارے آس پاس کچھ ایسے بزرگ بھی پائے جاتے ہیں جو بس پڑے پڑے ’سینئیر‘ ہو گئے۔ اس اتفاقی ’سنیارٹی‘ کے باعث جہاں ان میں دیگر خواص پیدا ہوئے وہیں ایک اہم ترین خاصیت، جملہ حاضرین کو جی بھر کے دہلانا اور ان میں مایوسی، یاسیت اور قنوطیت کے جذبات کو ابھ [..]مزید پڑھیں

  • ہائی کورٹس کا دائرہ اختیار

    پاکستان میں سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار پورے ملک پر ہے۔ سپریم کورٹ کے نیچے پانچ ہائی کورٹس ہیں۔ چاروں صوبوں کا اپنا اپنا ایک ہائی کورٹ ہے جب کہ وفاقی دارالحکومت کا الگ اسلام آباد ہائی کورٹ ہے جس کا دائرہ اختیار صرف اسلام آباد تک ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے اپنے اپنے � [..]مزید پڑھیں