تبصرے تجزئیے

  • ایران پر حملہ اور بین الاقوامی قانون

    اسرائیل اور امریکہ نے جس طرح ایران پر حملہ کیا اور سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا، اس سے کئی سنگین سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ مثلاً کیا انٹرنیشنل لا اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ جنگ کے دوران کسی ریاست کے سربراہ کو مار دیا جائے؟َ کیا جنگوں کی جدید تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ایسا ہوا ہے؟ [..]مزید پڑھیں

  • اگلی باری کس کی ؟

    ایران امریکا اور اسرائیل جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ جب تک میں تحریر لکھ رہا ہوں ایران قابل قدر مزاحمت کر رہا ہے۔ امریکا اور اسرائیل بھی وحشیانہ بمباری کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی سیز فائر کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا۔ ایران بھی سیز فائر کے لیے تیار نہیں اور امریکا اور اسرائیل کی جا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • یہ کہانی کسی بھی وقت دہرائی جا سکتی ہے

    جب دو عالمی دس نمبری غنڈے آپ کے ساتھ والے گھر پر قبضہ کرنے کیلئے چادر چار دیواری کے سارے اصول توڑتے ہوئے حملہ آور ہو رہے ہوں اور ان شہدوں کی شہرت یہی ہو کہ وہ نہ کسی کے دوست ہیں اور نہ ہی کسی اخلاقی قاعدے کے پابندتو ایسے میں اپنے گھر کے مستقبل کی خاطر ہمسایے سے پرانی شکایات کا د� [..]مزید پڑھیں

  • علی خامنہ ای کا تشیع اور ہمارا تاریخی شعور

    علی خامنہ ای شیعہ نہیں تھے۔ گرفتارانِ ابوبکرؓ و علیؓ کو شاید اس کی خبر نہیں ہو سکی۔ہمارا تاریخی شعور ایک بار پھر عرصۂ آزمائش میں ہے۔ گزشتہ ایک صدی میں وقت نے کئی بار ہمارے دروازے پر دستک دی اور ہمارے تاریخی شعور کو آزمایا۔ کبھی ہم پوری طرح کامیاب رہے، کبھی یہ کامیابی جزوی � [..]مزید پڑھیں

  • مظلوم ایرانی عوام کا دکھ

    افسوس ایران میں بالآخر وہی المیہ وقوع پذیرہوگیا ہے جس کا خدشہ یہ درویش مدت سے بیان کرتا چلا آ رہا ہے۔ امام خمینی کی گدی پر بیٹھے ایرانی ولایتِ فقیہ کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنائی سمیت ایران کی تقریباً پوری ٹاپ قیادت امریکی ٹارگیٹڈ حملے میں اڑا دی گئی ہے یا جان بحق ہو گئی [..]مزید پڑھیں

  • مذہبی سیاست کا المیہ اور جمہوریت

    جمہوریت میں دائیں اور بائیں بازو کے دھارے اپنی مخصوص ترجیحات سے قطع نظر جائز سیاسی رجحان کا درجہ رکھتے ہیں۔ تاہم مذہبی سیاست سے مراد ایسی سوچ ہے جو کسی مخصوص مذہبی شناخت کے تابع ہو اور اس ترجیحی مذہبی فکر کی معاشی اور قانونی بالادستی کو سیاسی نصب العین سمجھتی ہو۔ اگلے روز ایک [..]مزید پڑھیں

  • یاد رکھئے کہ اب ناممکن بھی ممکن ہے

    محمود احمدی نژاد دو ہزار پانچ سے دو ہزار تیرہ تک ایران کے صدر رہے۔ بعد ازاں کھلی کھلی گفتگو کے سبب ان کے اعلیٰ قیادت سے اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ دو ہزار چوبیس کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انہوں نے جو کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے وہ بھی مسترد ہو گئے۔ آخری برسوں میں وہ مشرق� [..]مزید پڑھیں

  • امریکہ کو ایران میں مادورو جیسا جانشین نہیں مل سکتا

    دفاعی امور کے حوالے سے بارہا دہرایا ایک اصول ہے۔ یہ متنبہ کرتا ہے کہ برسوں کی مشق کی بدولت تیار کئے منصوبے میدانِ جنگ میں پہلی گولی چلتے ہی عمل کے قابل نہیں رہتے۔ ایران کے روحانی رہ نما علی خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد امریکہ اور اسرائیل میری ناقص رائے میں ایران کے ساتھ جنگ کے دو [..]مزید پڑھیں