تبصرے تجزئیے

  • ماحولیاتی پامالی پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ

    پاکستانی معاشرہ ایک ہمہ جہت زوال کی طرف گامزن ہے۔ آپ کسی سماجی شعبے پر نظر ڈالیں تو وہ ایک نئی پستی کو چھوتا نظر آتا ہے۔ حکومتی بے حسی تو ایک طرف، ایسا لگتا ہے کہ ساری قوم سے احساس زیاں مفقود ہو گیا ہے۔  خصوصاً اگر ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی پامالی کی طرف دیکھا جائے تو  [..]مزید پڑھیں

  • ایک اور پرانی کہانی

    آج آپ ایک اور پرانی کہانی گوش گزار کیجئے۔ کہانی سننےکے بعد، کہانی کے مفہوم پرغور کیجیے گا۔ آپ کہانی سنئے۔ ایک نیکو کار پروفیسر35 برس درس و تدریس سے وابستہ رہنے کے بعد ریٹائر ہوئے۔ کالج انتظامیہ اور کولیگ اساتذہ نے فیئر ویل یعنی الوداعی دعوتیں دیں۔ دعوتوں کے دوران دوست احب [..]مزید پڑھیں

loading...
  • شاید عقل کی ٹرین چھوٹ گئی ہے

    ریاستی جبر کے ہتھیاروں میں بلڈوزر کے سفاکانہ استعمال کا موجد اسرائیل ہے۔ جس نے اس مشین کو فلسطینی املاک مٹانے کے لیے کمال جانفشانی سے استعمال کیا۔ مگر اب لگتا ہے بھارت اس معاملے میں اسرائیل کا بھی مرشد ہو گیا ہے۔ اس بابت ارودن دھتی رائے کا ایک فکر انگیز مضمون نگاہ سے گزرا۔ اب [..]مزید پڑھیں

  • احتساب کے بغیر جمہوریت

    پاکستان میں اصولی طور پر سیاست او رجمہوریت کی  بقا کے لیے ہمیں احتساب کے نظام کو ختم کرنا پڑے گا۔ کیونکہ یہ ہی سوچ او رفکر بنیادی طور پر ہماری ریاست، حکومت او راداروں میں موجود فیصلہ ساز یا طاقت ور قوتوں میں پائی جاتی ہے۔ ان کے بقول اگر ملک نے ترقی کرنی ہے تو ہمیں کرپشن جیسے � [..]مزید پڑھیں

  • سیاست، نیوٹریلٹی اور سکیورٹی پرنٹنگ پریس

    اگر گجرات کے چوہدری (پنجاب کے سید برادران) بھی آپس میں گتھم گتھا ہو گئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ’گل زیادہ ہی ودھ گئی اے مختاریا‘۔ اگر سابق لاٹھی ٹیک جرنیل بھی اپنے اپنے ڈرائنگ رومز سے باہر آ کر حاضر سروس جرنیلی حکمتِ عملی پر تھڑے بازی کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ سب اچھا ن� [..]مزید پڑھیں

  • سپر ٹیکس کے خلاف واویلا اور مہناز دانیال کا کرب

    گزرے جمعہ کے دن قومی اسمبلی کا جو اجلاس ہوا اس کے بعد ہم سب کی توجہ اس ”سپرٹیکس“ کی جانب مرکوز ہوچکی ہے جو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے سب سے منافع بخش دھندوں کے اجارہ داروں پر محض ایک سال کے لئے عائد کیا ہے۔ اندھی نفرت و عقیدت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں روایتی اور سوشل میڈی [..]مزید پڑھیں

  • برلن کی ایک ادبی شام

    19 جون 2022 کو برلن شہر کی وہ دوپہر بہت خوبصورت تھی۔ درجہ حرارت کا پارہ اپنی پرکیف اور مستانہ حالت میں چالیس درجے کے آس پاس محو رقص تھا۔ ہم نے یعنی میں اور علی حیدر بھائی نے برلن کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر ٹورنٹو کینڈا سے تشریف لائے ڈاکٹر سید تقی عابدی صاحب کو خوش آمدید کہا اور گھر کو [..]مزید پڑھیں