تبصرے تجزئیے

  • تختِ پنجاب کی جنگ

    ایک وقت تھا جب پنجاب کی وزارت اعلیٰ ایک کسان کے بیٹے کے نصیب میں آئی مگر شاید وہ سیاسی رومانس کا زمانہ تھا جب ذوالفقار علی بھٹو نے ملک معراج خالد کو نامزد کیا تو پارٹی میں موجود بہت سے جاگیرداروں کو فیصلہ پسند نہ آیا۔ انہوں نے اُن کو ناکام بنانے کا فیصلہ کرلیا اور پھر کچھ ایس [..]مزید پڑھیں

  • لوٹا ۔۔ شاہ محمود کی ناکامیوں کی کہانی

    ایک گاؤں میں ایک کنویں کے ارد گرد بڑا شور تھا معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ ایک گیڈر کنویں میں گر گیا ہے اور بڑا شور ڈالا ہوا ہے اور ساتھ دھمکی دے رہا ہے اگر مجھے کنویں سے نہ نکالا تو میں کہیں منہ کر جاؤں گا اور تمہارا بڑا نقصان ہو گا ۔ میں نے یہی کیفیت ملتان کے ایک سیاسی لیڈر کی دیکھی ہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • گرینڈ اوور سیز کلب

    کہتے ہیں کہ جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر ہی مار لینا چاہئے۔ سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کو اقتدار سے باہر ہونے کے بعد خیال آیا کہ انہیں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرانے کے لئے گرینڈ اوورسیز کلب بنانا چاہئے۔ اگر ان کے دل میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں ک� [..]مزید پڑھیں

  • باتیں بقر عید کی

    اگرچہ آپ کو پتا ہوگا لیکن پھر بھی بتادیں کہ بقر عید مسلمانوں کا تہوار ہے۔ اب آپ کہیں گے جو ہم جانتے ہیں وہ بتانے کا کیا فائدہ؟ تو بھیا آپ تو یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ آپ کا پاکستان ہے، پھر بھی بتایا جاتا ہے ناں کہ ’یہ میرا پاکستان ہے یہ تیرا پاکستان ہے‘۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہ� [..]مزید پڑھیں

  • کشمیری صحافت کی حالت زار، کیا سب ٹھیک ہے؟

    مگر یہ کیا؟ اکثر اخبارات نے بس مختصراً ایک یا دو کالم میں اس خبر کو شائع کیا تھا۔ اس سے بہتر کوریج تو دہلی کے اخبارات نے دی تھی اور ٹی وی چینلوں نے پرائم ٹائم پر اس پر خاصی بحث بھی کی تھی۔ میں نے سوچا چلو اداریے کے صفحات پر تو کچھ تفصیلات مل جائیں گی۔  ایک کثیر الاشاعت اُردو رو [..]مزید پڑھیں

  • قربانی کے رُوپ

    ہت زمانے تک عیدِ قرباں سے متعلق کالموں یا تحریروں میں اس قسم کے اشعار بکثرت استعمال ہوتے تھے اور ہر کوئی ان کا مزہ بھی لتیا تھا کہ: یہ عجیب رسم دیکھی کہ بروزِ عید قرباں وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب اُلٹا غریب، سادہ و رنگیں ہے داستانِ حرم نہایت اس کی حسینؓ ابتدا ہے اسماعیل [..]مزید پڑھیں

  • آزادی رائے بہترین غلط فہمی ہے

    ہمارے ہاں اہل صحافت اور سیاسی کارکنان اکثر ’قانون کے تحت‘ آزادی رائے کا حق مانگتے ہیں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ جس روز انہیں قانون کے مطابق آزادی رائے دی گئی، اس دن آزادی صحافت اور حزب اختلاف دونوں جیل میں چکی پیس رہے ہوں گے۔ آزادی رائے کو آپ آئین اور قانون کے تناظر میں دی� [..]مزید پڑھیں