تبصرے تجزئیے

  • عدلیہ کے کفن میں آخری کیل

    دنیا بھر سے سفارتی کامیابی اور مصالحاتی کوششوں پر داد و تحسین  وصول کرنے والی حکومت نے  اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان چند ججوں کو ٹارگٹ کرنے اور ان کے سرکار مخالف طرز عمل  کی سزا دینے کا عمل مکمل کرلیا ہے۔ حالانکہ  حکومت ہی کے چنے ہوئے چیف جسٹس یحیٰ آفریدی نے    ججو [..]مزید پڑھیں

  • سرعبدالکریم عاجز کے ساتھ کیا ہوگا؟

    آج کل سر عبدالکریم عاجز کی گت بنی ہوئی ہے۔ چھوٹے موٹے اچھے کام کرنا اس کی عادت ہے۔ مثلاً کبوتروں کو دانا ڈالنا، یعنی کبوتروں کو دانا کھلانا۔ سندھ ہائی کورٹ اور سندھ سیکرٹری کے درمیان بٹوارے سے پہلے ایک چوک ہوا کرتا تھا۔ چوک کا نام تھا گاندھی چوک، بیچوں بیچ چوک کے ایک چبوترے � [..]مزید پڑھیں

  • مولانا فضل الرحمٰن کا مخمصہ!

    مولانا فضل الرحمٰن ہیں تو سکہ بند مولوی مگر محفل میں دنیا داروں کی طرح ایسی رنگارنگی پیدا کرتے ہیں کہ ہر بار ان سے ملنے کے بعد قریبی تعلق مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ آج کل کے سیاستدانوں میں روکھا پن دور سے ہی نظر آتا ہے مگر مولانا فضل الرحمٰن میں وہ خوئے دل نوازی موجود ہے جو نوابزادہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سیز فائر اور بحری ناکہ بندی کا فرق

    ایران کے وزیر خارجہ پاکستان کے دورے مکمل کر گئے ہیں۔ وہ پہلے پاکستان آئے۔ پھر اومان گئے اور پھر واپس پاکستان آئے۔ اب وہ ماسکو جا چکے ہیں۔ ایک سوال تو سب کے ذہن میں ہے کہ کیا کوئی بریک تھرو ہو گیا ہے۔ کیا ایران اور امریکا کسی امن معاہدہ پر پہنچ گئے ہیں۔ کیا امن معاہدہ کے حوالے [..]مزید پڑھیں

  • دائرے میں سفر کرنے والے ہم لوگ

    میں یہ بات شرحِ صدر سے کہہ رہا ہوں کہ مجھے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان خواہ عارضی ہی سہی مگر جنگ رکوانے میں پاکستان کے کردار پر خوشی بھی ہے اور فخر بھی ہے۔ دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہونا، پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہونا اور پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرانا دراصل [..]مزید پڑھیں

  • تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ

    حالیہ عرصے میں جس طرح ایران نے ڈٹ کر اہل مغرب کا مقابلہ کیا ہے، اس سے سابق نوآبادیاتی ممالک میں ایران کی قدر و قیمت میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اہل ایران میں اس اعتماد کا سرچشمہ کہاں ہے؟ ایران پر مسلط کردہ غیر قانونی امریکی اسرائیل جنگ کے کچھ بدترین دنوں کے دوران، میں � [..]مزید پڑھیں

  • پاکستانی سماج پر جنگ کے مذہبی اثرات

    ہمارے معاشرے پر جنگ کے مذہبی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں جو متوقع تھے۔ اسی بنا پر ابتدا ہی میں توجہ دلائی تھی کہ اہلِ مذہب متنبہ رہیں۔ انہوں نے مگر اسی روش پر چلنے کو مناسب سمجھا جس پر وہ برسوں سے چلے جا رہے ہیں۔ مذہبی تقسیم نمایاں ہونے لگی ہے مگر اس کی جہتیں ایک نہیں،دو ہیں۔ ایک تق [..]مزید پڑھیں