تبصرے تجزئیے

  • فن و ثقافت کا شہر ویانا

    الحمداللہ آج ہمارا یہ 400واں کالم ہے۔ پچھلے دس برس سے ہر ہفتے کالم لکھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، اس نے  دس برسوں میں 400 سیڑھیاں طے کر لی ہیں۔ لیکن ہر کالم کو لکھنے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر کالم کو لکھ کر ہم نے کچھ سیکھا ہے۔ اس کے علاوہ میرے قاری نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی ا [..]مزید پڑھیں

  • گھاتیں اور وارداتیں

    وزیراعظم عمران خان کو اپوزیشن سے کوئی خطرہ ہے نہ اسٹیبلشمنٹ سے تاہم اسٹیبلشمنٹ کی ایک طاقتورشخصیت پرسے اعتماد ختم ہوچکا ہے۔ اسی لیے وہ آج کل اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے دن رات سوچ بچار کر رہے ہیں۔ مسئلہ حل ہوگیا تو اپوزیشن ناکام اور اگر بڑھ گیا تو عمران خان حکومت ختم ہوجائے گی۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پروفیسر دیدار دکھی نے سب کچھ بھلا دیا

    پروفیسر دیدار دکھی کے دکھوں کی فہرست اس قدر لمبی تھی کہ وہ پروفیسر دیدار حسین کی بجائے پروفیسر دیدار دکھی کہلوانے میں آیا۔ عام طور پر لوگ سمجھتے تھے کہ پروفیسر دیدار حسین شاعر تھا۔ اور دکھی اسکا تخلص تھا مگر ایسا نہیں تھا۔ وہ کیمسٹری پڑھاتا تھا۔ اسے شعرو شاعری سے کوئی دلچسپ [..]مزید پڑھیں

  • فن، آرٹ اور ثقافت کا شہر ویانااور آسٹریا کی تاریخ

    سنتے ہیں کہ زندگی ایک سفر ہے لیکن مجھے سفر میں ثقافت، تاریخ، زبان اور لوگوں سے مل کر اتنا لطف آتا ہے کہ میں کہتا ہوں سفر میں بھی ایک زندگی ہے۔جس سے ہمیں اس ملک کے بار ے میں نئی معلومات سے آگاہی ہوتی ہے۔اس کے علاوہ اس بات کا ابھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں لوگوں کی خوشحالی اور بد � [..]مزید پڑھیں

  • پیکا آرڈیننس اور آزادی اظہار؟

    ان دنوں ملک میں پروفیشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) ترمیمی آرڈی ننس پر بحث جاری ہے۔ وزیر قانون کا اصرار ہے کہ فیک نیوز روکنے کےلئے ایسی کاوش کرنے والے کو پانچ سال سزا ہوگی یہ جرم ناقابل ضمانت ہوگا اور اس میں بلاوارنٹ گرفتاری ممکن ہوگی۔ انہوں نے اس کا پس منظر بیان کرتے ہوئے کہ [..]مزید پڑھیں

  • انگریز ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟

    پاکستان اسلام کا مضبوط قلعہ ہے اور دنیابھر میں مسلمانوں پر جہاں کہیں بھی ظلم ہوتا ہے تو اس کے خلاف پہلی آواز پاکستان سے اُٹھتی ہے۔ پاکستانی ایک غیرت مند قوم ہیں اور مغربی سازشوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں“۔ میں اپنے ایک پاکستانی پروفیسر دوست کی یہ بات سن کر مسکرایا اور خ [..]مزید پڑھیں

  • خالص زبان میں لکھا گیا ایک کالم

    اس فقیر پُرتقصیر کے پڑھنے والے بھلے (ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے ) تسلیم کرنے سے انکاری ہوں، خلوص اور موانست کا رشتہ تو ان سے طے پا چکا۔ کچھ مہینے ہوئے، غالباً گزشتہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ تھا، ایک کالم لکھا تھا، ’درویش کے دانت سویلین ہو گئے‘ ۔ سیدھے سیدھے بتا دیا تھا � [..]مزید پڑھیں