تبصرے تجزئیے

  • سیاسی کھیل میں اتنی تیزی کیوں؟

    پاکستان کے سیاسی منظر نامہ میں ایک عجیب سی تیزی نظر آرہی ہے۔ ایسے جیسے کسی کو بہت جلدی ہے اور وہ کام جلدی تمام کرنا چاہتا ہے۔جس تیزی سے حکومتی حلیف اپوزیشن سے مل رہے ہیں۔ اس کی سمجھ نہیں آرہی کہ حکومتی حلیفوں کو یک دم اپوزیشن کو ملنے کی اتنی جلدی کیوں ہے۔ ایک دن بھی ضائع نہیں ک� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • عدالت عظمیٰ کا نیا دور: بہتر یا بدتر؟

    پاکستان کے نئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا بار اور بنچ کے سامنے پہلا خطاب لائق تبصرہ ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ میڈیا کو عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے لیکن حکومت وقت کو اسے ججوں کو بدنام کرنے اور اسکینڈلائز کرنے سے روکنا چاہیے۔ وہ خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عدلیہ [..]مزید پڑھیں

  • ایک اور سیاسی شہید؟

    مسلم لیگ ن عمران خان کی جگہ آصف علی زرداری کو نیا وزیراعظم بنانے پر تیار ہے لیکن ابھی تک آصف علی زرداری نے ہاں نہیں کی۔ یقین نہیں آ رہا آپ کو؟ میں نے بھی پہلی دفعہ یہ بات سنی تو مجھے بھی یقین نہیں آیا تھا۔ دو ہفتے قبل مولانا فضل الرحمان کے ایک قریبی ساتھی نے لاہور میں شہباز شریف [..]مزید پڑھیں

  • بھارت میں مسلم خواتین میں اپنی شناخت کی نئی لہر

    مسلمان عورت کے بارے میں کئی صدیوں سے یہ باور کیا جاتا ر ہا ہے کہ وہ پردے میں چھپی اپنے گھر کے کسی کونے میں دبک کر بیٹھی رہتی ہے۔ اس کی اپنی کوئی زندگی نہیں ہوتی۔ ساری عمر باپ بھائیوں اور بعدازاں خاوند کی خدمت گزاری میں مصروف رہتی ہے۔ بھارتی خواتین کی جواں نسل نے تاہم حیران کن جر [..]مزید پڑھیں

  • عمران خا ن کا نیوٹرل امپائر

    ساڑھے تین سال حکومت کرنے کے بعد وزیر اعظم  عمران خان نے پنجاب میں عثمان بزدار کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے  ’نیوٹرل امپائر‘ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ کسی ٹی وی پروگرام میں مکمل غیر جانبداری سے یہ بتا سکے کہ کیسے عمران خان کے چنے ہوئے ’وسیم اکرم پلس‘ � [..]مزید پڑھیں

  • فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی

    لتا دیدی مرگئی۔ من یہ ’’جھوٹی ‘‘ خبر ماننے کو تیار ہی نہیں ہورہا۔ خود کو لاکھ سمجھایا ہے کہ یہ سال لتا دیوی کیلئے بہت خطرناک ثابت ہوا ہے۔ 8جنوری کو کورونا یعنی سینے میں سانس کی الجھن کے باعث انہیں ممبئی کے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ وہ آئی سی یو میں تھیں اور پھر وینٹی ل� [..]مزید پڑھیں

  • عمران حکومت اور مونتیل کی بیوہ

    جوانی بھی کیسا خواب در خواب کا جادوئی سلسلہ ہے۔ ہماری نسل کے لئے 80 کی دہائی کے آخری برس فروری میں خزاں زدہ ٹہنیوں سے پھوٹتی کونپلوں جیسی لطیف آرزوؤں کا موسم تھے۔ ہمارے ملک میں تیسری آمریت کی طویل رات ختم ہو رہی تھی۔ مشرقی یورپ سے لے کر لاطینی امریکا تک جمہوریت کے چشمے ابل رہے [..]مزید پڑھیں